خطبات محمود (جلد 17) — Page 63
خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۶ء چندہ دینے والوں کی زیادتی سے آمد سوا تین لاکھ ہو جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت قادیان میں ہی پانچ سو عورتیں مرد ایسے ہیں جو بالکل سکتے بیٹھے ہیں اور جن کی نظر اسی طرف رہتی ہے کہ کوئی انہیں دے تو کھالیں۔ان میں اخلاص ہے، نیکی ہے اگر فاقہ میں بھی انہیں چندہ کی آواز آئے تو وہ اپنے مانگے ہوئے روپیہ میں سے چندہ دینے کیلئے تیار ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ کیلئے اسے خرچ کر دیں گے پس ان میں اخلاص کی کمی نہیں ، کمی صرف تربیت کی ہے۔کام لینے والوں نے ان سے کام نہیں لیا اور سمجھانے والوں نے انہیں سمجھایا نہیں اور نہ انہیں بتایا ہے کہ کس رنگ میں وہ اپنی عزت بڑھا سکتے ہیں۔اگر بتاتے تو وہ بھی دوسروں سے پیچھے نہ رہتے۔گویا وہ قیمتی موتی ہیں مگر افسوس کہ مٹی کے اندر ملے ہوئے ہیں۔جس طرح ایک گھوڑا جس پر سوار ہو کر انسان میلوں میں سفر کر لیتا ہے اگر انسان اُس کے نیچے کھڑا ہو کر اُسے اپنے سر پر اُٹھانا چاہے تو وہ اس کی کمر توڑ دے گا اسی طرح یہ قوم کے گھوڑے ہیں مگر بجائے اِس کے کہ ان کے ذریعہ ترقی کی منازل طے کی جاتیں وہ ایسے پتھر بن گئے ہیں جو قوم کے گلے میں پڑے ہوئے ہیں اور جو اسے نیچے ہی نیچے کھینچے لئے جارہے ہیں۔پس ضروری ہے کہ اس قسم کے کام تمام جماعت مل کر کرے تامل کر کام کرنے کی وجہ سے کوئی شخص ہاتھ سے کام کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھے۔میں نے اُس وقت کئی کام بھی بتائے تھے چنانچہ میں نے کہا تھا مہمان خانہ بننے والا ہے سب مل کر اس کی تعمیر کر دیں لیکن لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور مہمان خانہ بن گیا۔پھر میں نے کہا تھا محلوں میں بڑا گند ہوتا ہے غیر لوگ جب دیکھتے ہوں گے تو باہر جا کر کیا کہتے ہوں گے کہ یہ احمدی تقریریں کرتے وقت تو کہتے ہیں قرآن مجید کا حکم ہے صفائی کرو اور گندگی سے بچو لیکن ہم نے ان کے محلے دیکھے ہیں بدکر کے مارے ان میں سے گزرا نہیں جاتا۔متعفن نالیاں ہیں، راستوں پر گند پڑا رہتا ہے اور کوئی صفائی نہیں کرتا۔میں نے توجہ دلائی تھی کہ محلے والے مل کر اس گند کو دُور کریں اور گڑھے وغیرہ پر کر کے جگہیں ہموار کر دیں۔آخر لوگ روٹیوں کی دعوت کھانے کیلئے جاتے ہیں یا نہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کام کیلئے لوگوں کو دعوت دی جائے اور وہ نہ آئیں۔ہوسکتا ہے کہ ایک دن دار الرحمت والے سارے شہر کی دعوت کر دیں اور کہیں آؤ سب مل کر ہمارے محلہ کی صفائی کرو، پھر کسی دن دار الفضل