خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 612

خطبات محمود ۶۱۲ سال ۱۹۳۶ دوسری موٹر سے ٹکرا گئی ہے میرے ساتھ چونکہ ڈاکٹر صاحب بھی تھے اس لئے میں نے موٹر کو ٹھہرالیا اور ہم سب نیچے اُتر آئے۔انہی ہندوؤں میں ایک بُڑھا بھی موجود تھا وہ زور سے چیخ مار کر کہنے لگا وہ عورتوں کی لاشیں پڑی ہیں ان لاشوں کو تو کم سے کم آپ پٹھانکوٹ پہنچا دیں۔یہ سن کر ہم جلدی سے وہاں پہنچے کہ دیکھیں کتنی لاشیں ہیں مگر جب پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان لاشوں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے یعنی سب زندہ ہیں۔اب ان عورتوں کو لاشیں اس نے اسی لئے کہا کہ عام ہندوستانی جب تک یہ نہ سنے کہ لاشیں پڑی ہیں اُس وقت تک وہ اپنی موٹر سے نیچے نہیں اترتا اور وہ چونکہ ہمارے اخلاق سے ناواقف تھا اس لئے اُس نے لاشیں کہہ کر ہماری ہمدردی کے جذبات کو ابھارنا چاہا۔خیر شیخ بشیر احمد صاحب کو ساتھ لے کر کہ وہ بھی اس سفر میں میرے ہمراہ تھے موٹر میں پٹھانکوٹ گیا وہاں موٹر کا انتظام کروایا گیا اور پولیس کو اطلاع دی گئی اور ڈاکٹر صاحب اور نیر صاحب کو ہم پیچھے چھوڑ گئے تا زخمیوں کی مرہم پٹی اس عرصہ میں ہو جائے۔میں ضمناً یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ گورنمنٹ کا انتظام اس بارے میں خطر ناک طور پر ناقص ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ان لوگوں میں سے مرا کوئی نہ تھا لیکن ان میں سے ایک مریضہ پہلی میں درد کی شکایت کرتی تھی اور ڈاکٹر صاحب کو خطرہ تھا کہ وہ درد ہڈی ٹوٹنے کے سبب سے نہ ہو اور مہلک ثابت نہ ہو۔اس لئے جب ہم پٹھانکوٹ پہنچے تو شیخ بشیر احمد صاحب نے تفصیلاً پولیس والوں کو اصل حالات سے اطلاع دے دی لیکن باوجود حالات کی نزاکت کے پولیس والے پہلے تو اس بحث میں لگے رہے کہ وہاں جائے کون پھر ایک بیٹھ گیا کہ لاؤ پر چہ چاک کرواؤ اور بیان لکھواؤ اور چالیس منٹ اِس طرح ضائع کر دیئے گئے۔دنیا کی کسی مہذب حکومت میں ایسی حماقت پولیس والے نہیں کر سکتے۔اگر انگلستان میں ایسا واقعہ ہو تو وہ کان پکڑ کر ایسے پولیس والے کو نکال دیں مگر پولیس نے کافی وقت ضائع کیا۔میں موٹر میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا شیخ بشیر احمد صاحب بہت دیر کے بعد واپس آئے تو میں کی نے ان سے دریافت کیا کہ اتنی دیر آپ نے کیوں لگائی ؟ انہوں نے بتایا کہ پولیس والوں نے ضمنیاں لکھنی شروع کر دی تھیں اور آپس میں یہ طے کر رہے تھے کہ کون اس کام کیلئے جائے۔آخر بمشکل انہیں تیار کیا ہے۔اب یہ تو اتفاقی بات تھی کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ساتھ تھے اور انہوں نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی لیکن اگر ڈاکٹر صاحب ساتھ نہ ہوتے تو زخمیوں کی اتنی دیر کون مرہم پٹی کرتا