خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 581

خطبات محمود ΟΛΙ سال ۱۹۳۶ جب اُسے کہا جائے کہ گالی مت دو تو وہ کہتا ہے فلاں گالی نہیں دیتا ؟ وہ چغلی کرتا ہے اور جب اُسے کہا جاتا ہے کہ چغلی مت کرو تو وہ کہتا ہے کہ کیا فلاں چغلی نہیں کرتا اور با وجود اس شدید عیب کے وہ سمجھتا ہے کہ وہ مصلح ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دیندار ہے۔اسی طرح وہ چندے میں سستی کرتا ہے اور جب اُسے کہا جائے کہ ستی مت کرو تو وہ کہتا ہے کہ کیا فلاں شخص چندہ دینے میں سستی نہیں کرتا ؟ اور اکثر اوقات جب وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص چندہ دینے میں سستی نہیں کرتا وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اور محض اپنے آپ کو بچانے کیلئے دوسروں کو عیب میں ملوث کرتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے میرے متعلق ایک اعتراض چھپوایا ( وہ منافق کی مثال نہیں بلکہ دشمنوں میں سے ایک شخص کی مثال ہے اور گومنافقوں کی مثالیں بھی میں دے سکتا ہوں مگر شاید اس طرح ان کا نام ظاہر ہو جائے جو ابھی میں ظاہر کرنا نہیں چاہتا ) کہ انہوں نے خلافت سے بہت سا روپیہ کمایا ہے چنانچہ ان کو صرف جلسہ سالانہ پر پچاس ہزار روپیہ نذر کا آتا ہے۔ایک دوست نے جب مجھے یہ اعتراض سنایا تو میں نے انہیں کہا اُسے کہہ دیں کہ وہ آکر ٹھیکہ لے لے اور جتنا روپیہ نذر کا اکٹھا ہو اُس میں سے کو حصے آپ رکھ لیا کرے اور ایک حصہ مجھے دے دیا کرے۔گو اس ایک حصہ میں سے بھی بہت سا روپیہ جماعت کے کاموں پر ہی خرچ کی کردوں گا مگر پھر بھی مجھے اس ٹھیکہ میں نفع رہے گا۔پس اُسے کہو کہ وہ اس شرط پر ٹھیکہ لے لے کہ وہ پانچ ہزار تو مجھے دے دیا کرے اور جس قدر نذرانہ آئے وہ خود کھ لیا کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا اکثر حصہ دینی ضروریات پر خرچ کر کے پھر بھی مجھے نفع ہی رہے گا۔غرض منافق اور دشمن ہمیشہ اپنے پاس سے باتیں بیان کرنی شروع کر دیتے ہیں اور کئی دوست انہیں سن کر گھبرا جاتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں کی نسبت وہ یہ کہتا تھا اور فلاں کی نسبت یہ۔بھلا جو خدا سے اخلاص نہیں رکھتا وہ اپنے بھائی سے کیا اخلاص رکھ سکتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بخاری لے دیں۔فرمانے لگے میں نے اُسے کہا کہ مجھے اس وقت توفیق نہیں۔وہ کہنے لگا یہ بھی کوئی بات ہے کہ آپ کو توفیق نہ ہو آپ صاف طور پر یہی کہ دیں کہ میں لے کر نہیں دینا چاہتا۔فرمانے لگے کیوں؟ وہ کہنے لگا سیدھی بات ہے حضرت مرزا صاحب کے دو تین لاکھ مرید ہیں اگر و 09۔