خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 580

خطبات محمود ۵۸۰ سال ۱۹۳۶ سب کچھ قربان کر دیتا ہے اُس کا حق ہے کہ وہ کہے باقی لوگوں نے کیا کیا اور وہ کیا کرتے ہیں بشرطیکہ وہ اعتراض جائز ہو کیونکہ بعض حالات میں بعض کیلئے قربانی کا زیادہ موقع ہوتا ہے اور بعض کیلئے کم۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت کے حصول کیلئے قربانی کرنے والے ہوتے ہیں وہ اعتراض کم کرتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔حدیثوں میں اس کی ایک مثال بھی آتی ہے۔حضرت ابو بکر نے ہمیشہ قربانی میں دوسروں سے بڑھے ہوئے رہتے مگر ان کو کبھی دوسروں کی قربانی دیکھ کر یہ خیال نہ آتا کہ وہ کم ہے لیکن کم قربانی کرنے والوں کو ضرور خیال آجا تا کہ ان کی قربانی زیادہ ہے۔ایک دفعہ رسول کریم نے قربانی کا مطالبہ کیا۔حضرت عمر د اللہ نے کہا حضرت ابو بکر قربانی میں ہمیشہ بڑھ جاتے ہیں اب کی دفعہ میں انہیں شکست دوں گا۔اُس وقت تک حضرت ابو بکر نے کی جو مالی قربانی تھی وہ نصف کے قریب نہیں پہنچی تھی اور جب وہ گھر سے مال لاتے نصف سے کم ہوتا۔حضرت عمر دینہ نے کہا میں اب کے اپنا نصف مال لے جاؤں گا اور ان کو شکست دوں گا مگر جب وہ اپنے گھر کا نصف مال لئے چلے آرہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر ے پہلے ہی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے ہوئے ہیں اور رسول کریم ﷺہے اس مال کو جو چندہ کے طور پر ابو بکر لائے تھے دیکھ کر حیرت کے ساتھ اُن سے پوچھ رہے تھے کہ ابو بکر ! کیا تم نے اپنے گھر میں بھی کچھ چھوڑا ؟ اور حضرت ابوبکر جواب میں عرض کر رہے تھے کہ اب اللہ اور اس کے رسول کا نام ہی گھر میں باقی ہے اور تو کچھ نہیں ہے۔حضرت عمر ﷺ نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ کہنے لگے اس شخص کو شکست دینا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس واقعہ سے حضرت ابو بکر ی کے دو کمال ظاہر ہوتے ہیں ایک یہ کہ وہ قربانی میں سب سے آگے بڑھ گئے اور دوسرے یہ کہ باوجود اپنا سارا مال لانے کے پھر سب سے پہلے پہنچ گئے اور جنہوں نے تھوڑا دیا تھا وہ اس فکر میں ہی رہے کہ کتنا گھر میں رکھیں اور کتنا لائیں۔مگر باوجود اس کے حضرت ابو بکر کے متعلق یہ کہیں نہیں آتا کہ اُنہوں نے دوسروں پر اعتراض کیا ہو۔حضرت ابو بکر قربانی کر کے بھی یہ سمجھتے تھے کہ ابھی خدا کا میں دیندار ہوں اور میں نے کوئی اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں کیا بلکہ اُس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے توفیق دی لیکن منافق خود تو کوئی قربانی نہیں کرتا البتہ دوسروں کی قربانیوں پر اعتراض کرتا چلا جاتا ہے۔وہ گالیاں دیتا ہے اور