خطبات محمود (جلد 17) — Page 577
خطبات محمود ۵۷۷ سال ۱۹۳۶ عليا کی شکل میں اُٹھایا جائے گا۔پھر رکوع اور سجدہ دعا کیلئے کتنے اچھے مقام ہیں مگر رسول کریم ہی ہے فرماتے ہیں کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں چلا جاتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔جب امام جھکے تب جھکنا چاہئے اور جب امام سر اُٹھائے اس وقت سر اُٹھانا چاہئے۔پس بے شک انہوں نے اخلاص دکھایا اور میں اس کی قدر کرتا ہوں اور ان کیلئے دعا کرتا ہوں لیکن ان کی خیر خواہی کے بدلہ میں ان سے یہ خیر خواہی کرتا ہوں کہ انہیں رسول کریم ﷺ کا یہ حکم بتاتا ہوں کہ جس وقت قومی قربانی کا سوال ہو اُس وقت ہر شخص کو امام کی آواز کا انتظار کرنا چاہئے۔ہاں جب انفرادی قربانی کا سوال ہو تو ہر شخص اپنے اخلاص کے اظہار کیلئے دوسروں سے آگے بڑھ سکتا ہے اور اسے بڑھنا چاہئے۔در حقیقت امام کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ ایک جماعت بحیثیت جماعت قربانی کرے افراد کی قربانی تو بغیر امام کے بھی ہو سکتی ہے۔چین کی نازک حالت میں جب مسلمانوں کی حکومت ن تباہ ہو رہی تھی عیسائیوں نے بعض شرائط پیش کیں کہ اگر مسلمان انہیں مان لیں تو ہم انہیں ملک سے نکل جانے کی اجازت دے دیں گے۔بادشاہ نے اس کے متعلق مشورہ لینے کیلئے جب اپنے سرداروں کو بلایا تو انہوں نے کہا یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان شرائط کو تسلیم کر لیا جائے ہمارے اندر ان کے مقابلہ کی کوئی طاقت نہیں۔اگر وہ ہمیں افریقہ جانے دیں، کتب خانے ساتھ لے جانے دیں اور کسی قدر مال و دولت کے لے جانے میں بھی مزاحم نہ ہوں تو ہمیں اور کیا چاہئے۔ان سرداروں میں ایک مسلمان جرنیل بھی تھا جب اس نے یہ باتیں سنیں تو وہ کھڑا ہوا اور اُس نے کہا سو ڈیڑھ سو سال سے ہماری حالت اس ملک میں کمزور ہوتی چلی آرہی ہے اور اس عرصہ میں بیسیوں معاہدے عیسائیوں سے ہوئے مگر کیا تم ایک معاہدہ بھی ایسا دکھا سکتے ہو جو انہوں نے پورا کیا ہو۔جب ایک معاہدہ بھی تم ایسا نہیں دکھا سکتے جو انہوں نے پورا کیا ہو بلکہ ہر معاہدہ کو انہوں نے توڑا ہے تو اب تم کس طرح امید کر سکتے ہو کہ وہ اس معاہدہ کی تمہارے لئے نگہداشت کریں گے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ باقی سب اس کے پیچھے پڑ گئے کہ یہ پاگل ہے، دیوانہ ہے، یہ نہیں سمجھتا کہ مصلحت کیا چیز ہوتی ہے اتنی عمدہ شرطیں جب وہ پیش کر رہے ہیں تو ہمیں ضرور مان لینی چاہئیں اگر یہ شرائط ہم منظور نہیں کریں گے تو چونکہ ہم کمزور ہیں اس لئے وہ شہر فتح کر کے اندر داخل ہو جائیں گے اور ہم سب کو ماردیں گے۔جب انہوں نے مخالفت کی تو وہ جرنیل اس مجلس سے اُٹھ کر چلا گیا اور اکیلا