خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 578

خطبات محمود ALA سال ۱۹۳۶ عیسائی فوج سے لڑا اور مارا گیا۔لوگوں نے سمجھا یہ ایک بیوقوف تھا جس نے اپنی بیوقوفی کی سزا پالی لیکن وہ بیوقوف نہیں تھا کیونکہ جب صلح ہوگئی اور مسلمانوں نے جہازوں میں عورتوں اور بچوں کو بھر دیا اور کتب خانوں کو بھی ساتھ لے لیا تو جس وقت سپین کو آخری الوداع کہہ رہے اور اپنے آنسوؤں کا ہدیہ اس کے سامنے پیش کر رہے تھے عیسائیوں نے یکدم حملہ کر کے ان کے جہازوں کو غرق کر دیا اور اس طرح وہ بُزدل اور ذلیل ہو کر مرے لیکن دنیا اس جرنیل کو آج بھی یاد کرتی ہے جس نے بہادری سے اپنی جان دی۔اس کے مقابلہ میں ان ہزاروں جان دینے والوں پر رحم تو آتا ہے مگر ساتھ ہی دل کے گوشوں سے ان کے متعلق لعنت کی آواز بھی اُٹھتی محسوس ہوتی ہے۔پس اکیلا مر جانا اور قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کر دینا ہر وقت ہو سکتا ہے لیکن امام کی غرض چونکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک جماعت تیار کرے اس لئے قربانیوں کا وہ آہستہ آہستہ مطالبہ کرتا ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر اسلام ایسی ہی قربانی چاہتا ہے جیسی آپ بیان کرتے ہیں تو کیوں اس وقت قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بے شک اسلام انتہائی قربانی چاہتا ہے مگر اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ کمزوروں کو اُٹھایا جائے اور انہیں بھی دوسروں کے پہلو بہ پہلو ترقی دی جائے۔اگر وقت سے پہلے ہی انتہائی قربانی کا مطالبہ کر لیا جائے تو ہزاروں لوگ جو بعد میں مؤمن ثابت ہو سکتے ہیں منافق بن جائیں۔جیسے اسلام کہتا ہے کہ خدا اور رسول کے دشمن تباہ ہو جاتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ فورا تباہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ایک عرصہ تک ڈھیل جاتی ہے۔قرآن مجید میں ہی بار بار کفار کا یہ اعتراض دُہرایا گیا ہے کہ جب ہم مخالفت کرتے ہیں تو ہم مارے کیوں نہیں جاتے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہی جواب دیا ہے کہ ہم تمہیں ڈھیل دیتے ہیں شاید کسی وقت تم درست ہو جاؤ اور ہدایت پر آ جاؤ۔یہی حال انبیاء کی جماعتوں کا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں آہستہ آہستہ قربانیوں کی طرف لاتا ہے تا جو گر نے والے ہیں وہ کم ہو جائیں اور بچنے والے زیادہ ہوں۔پس قربانی کا معیار اسی جگہ پہنچ کر رہے گا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچا اور جہاں آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں پہنچا مگر چونکہ کمزوروں اور ناطاقتوں کو اٹھانا بھی ایمان کا حصہ ہے اس لئے امام کا فرض ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ قربانیوں کا مطالبہ کرے اور زیادہ سے