خطبات محمود (جلد 17) — Page 576
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کے پاس خبر رسانی کریں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا کام یہی بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے منافق تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں تو سوائے اس کے کہ تمہارے اندر تفرقہ پیدا کریں اور دشمنوں کے پاس خبر رسانی کریں اور کیا کر سکتے ہیں۔پس میرا یقین ہے کہ جماعت کی ترقی ان مخلصین کے وجود پر ہے کہ جب جب اور جس جس وقت انہیں مرکز کی طرف سے آواز سنائی دے وہ اس پر لبیک کہتے جائیں اور میں سمجھتا ہوں جب تک جماعت کے خیالات اس بارے میں متفق نہ ہوں جماعت کے لوگ میری مدد نہیں کر سکتے۔اگر اس خیال پر تم قائم نہیں کہ تمہاری ترقی اخلاص کے ذریعہ ہے نفاق کے ذریعہ نہیں اور نہ تعداد کے ذریعہ تو تم لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں اربوں روپیہ بھی میرے قدموں میں ڈال دو پھر بھی وہ میرے کام نہیں آسکتا کیونکہ وہ تو کل کا روپیہ نہیں بلکہ شرک کا روپیہ ہے اور شرک کا روپیہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔اس کے مقابلہ میں اُس شخص کا دیا ہوا ایک پیسہ بھی برکت کا موجب ہوسکتا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کا ہوں اور خدا میرا اور فتح صرف خدا دیتا ہے۔جو یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے سوا دنیا میں کوئی چیز نہیں اور تمام اشیاء محض سایہ ہیں جو خدا کے ارادہ سے ادھر اُدھر نظر آتی ہیں اور جب وہ ارادہ ہٹالے تو کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ہے بعض دوستوں نے جو سلسلہ کے کارکن ہیں میرے گزشتہ خطبہ سے متاثر ہو کر مجھے لکھا کہ ہماری تنخواہوں میں سے اتنا اتنا حصہ کاٹ لیا جایا کرے۔میں ان دوستوں کے اخلاص کی تو قدر کرتا ہوں مگر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ سے خالی قربانی کبھی کامیاب نہیں کرتی بلکہ وہ قربانی کا میاب کیا کرتی ہے جو امام کے پیچھے اور اس کی اتباع میں کی جائے۔بے شک مؤمن کو قربانیوں کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے مگر اسے اس بات کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ امام کی آواز سنے اور جب امام قربانیوں کیلئے بلائے اُس وقت اپنی قربانی کا اظہار کریں۔نماز کتنی اچھی چیز ہے جتنی لمبی نماز ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے مگر رسول کریم ﷺ نے ہی صلى الله فرمایا ہے کہ جو شخص امام سے پہلے حرکت کرتا ہے قیامت کے دن اس کا منہ گدھے کے منہ کی طرح بنایا جائے گا تے۔اسی طرح اگر کوئی شخص امام کے تکبیر کہنے سے ایک منٹ پہلے نماز کی نیت باندھ لیتا ہے تو وہ ثواب حاصل نہیں کرتا بلکہ رسول کریم ﷺ کے قول کے مطابق قیامت کے دن وہ گدھے