خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 564

خطبات محمود ۵۶۴ سال ۱۹۳۶ تمام اقسام کی بھی ضرورت ہے، دنیا کی ہر خوبی اور ترقی کی بھی ضرورت ہے جہاں لوگوں کے دلوں کی سے خدا تعالیٰ پر ایمان اُٹھ گیا ہے وہاں اخلاق فاضلہ بھی اُٹھ گئے ہیں اور حقیقی دنیوی ترقی بھی مٹ گئی ہے کیونکہ اس وقت جسے لوگ ترقی کہتے ہیں وہ نفسانیت کا ایک مظاہرہ ہے اور دنیا کی ترقی نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس سے ایک حصہ دنیا فائدہ اُٹھا رہا ہے اور دوسرے کو غلام بنایا جا رہا ہے۔پس ایسے وقت میں ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی فلاں آیت پر ہمیں خاص طور پر عمل کرنا چاہئے اور فلاں کی طرف کم توجہ کی ضرورت ہے۔نہیں بلکہ قرآن مجید کی ہر آیت ہی اس قابل ہے کہ انسان اس کو اپنا طمح نظر اور نصب العین بنائے خصوصاً اس زمانہ میں کہ ہر آیت ہی کی طرف سے لوگوں کو بے رغبتی ہے مگر ایسے دن نہ بھی ہوں تب بھی قرآن مجید کی کسی آیت کا پچن لینا انسان کیلئے ناممکن ہے کیونکہ اس کی ہر ایک آیت بے شمار خوبیوں کی جامع ہے اور ہر آیت پر انسان یہ خیال کر کے کہ اس سے بڑھ کر بھلا اور کون سی آیت ہوگی حیرت میں پڑ کر وہیں کھڑا کا کھڑا رہی جاتا ہے۔پس اس صورت میں کہ قرآن مجید کی ایک ایک آیت تمام خوبیوں کی جامع ہے ہم کس آیت کو اپنا ما ٹو قرار دیں اور کس کو اپنا ماٹو قرار نہ دیں جبکہ ان میں سے ہر ایک ہی ہمارا ما ٹو ہے تو ترجیح کی کیا وجہ ہے؟ ہم کو تو اب خود کسی ماٹو کے تجویز کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے سارے قرآن مجید کو ماٹو مقرر کر دیا ہے لیکن اگر ایک مختصر ماٹو ہی کی ضرورت ہو تو وہ بھی رسول کریم ﷺ نے ہمارے لئے تجویز کر دیا ہے اور وہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔یہ جملہ در حقیقت قرآن کریم سے ہی اخذ کیا گیا ہے اور قرآن مجید کے سب مضامین کا حامل ہے۔گویا یہ تمام قرآن مجید کا خلاصہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تمام تعلیمیں اور تمام اعلیٰ مقاصد تو حید کے ساتھ ہی تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح بندوں کے آپس کے تعلقات اور بندہ کے خدا تعالیٰ سے تعلقات توحید کے اندر آ جاتے ہیں توحید کے معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور جس طرح سورج بغیر آنکھ کے نظر نہیں آسکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ایک خاص آنکھ کے بغیر نظر نہیں آ سکتا اور وہ آنکھ آنحضرت ملے ہیں ان کے ذریعہ سے ہی لا إِلهَ إِلَّا اللهُ دنیا کو نظر آ سکتا ہے اور اسی حکمت کی وجہ سے لَا إِلهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بغیر توحید کا سمجھنا ہی محال ہے۔گویا آنحضرت ﷺ ہی ایسی دور بین ہیں صلى الله