خطبات محمود (جلد 17) — Page 535
خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۶ تھی کہ انسان کے ہوش باختہ ہو جاتے تھے۔مجھے دھوپ سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک بدلی بھیجی جو ہمارے یکے کے ساتھ ساتھ سایہ کرتی ہوئی بٹالہ تک آئی۔یہ نظارہ دیکھ کر وہ ہندو کہنے لگا آپ تو خدا تعالیٰ کے بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح حضور نے ایک دفعہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک مکان میں سور ہا تھا کہ مجھے القاء ہوا کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے اس مکان سے جلد نکل چلو اور دل میں ایسا ڈالا گیا کہ جب تک میں اس مکان کے اندر ہوں وہ مصیبت نازل ہونے سے رُکی رہے گی۔چنانچہ میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے سب دوستوں کو پہلے مکان سے باہر نکال لوں۔چنانچہ جب وہ باہر چلے گئے اور میں بھی باہر جانے لگا تو ابھی میرا ایک قدم باہر اور ایک دروازے کے اندر کی طرف تھا کہ اس مکان کی چھت گر پڑی لیکن اپنی قدرت سے خدا تعالیٰ نے ہم سب کو اس کی بلائے ناگہانی سے محفوظ رکھا۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایسے سلوک کرتا ہے کہ انسان حیرانی رہ جاتا ہے مگر عبودیت شرط ہے اور ایسے انسان کا انجام ضرور بخیر ہوگا۔بظاہر وہ دنیا کی ظاہر بین نظروں میں ذلیل ہوتا نظر آ رہا ہوگا لیکن انجام کار اُس کو عزت حاصل ہوگی۔بظاہر وہ بد نام بھی ہو رہا ہوگا لیکن انجام کار نیک نامی اسی کو حاصل ہوگی۔گویا اس شخص کی ابتداء عبودیت سے اور انجام استعانت پر ختم ہو گا۔عبودیت کے معنی بندگی کے ہیں اور مثل مشہور ہے کہ بندگی بیچارگی۔اور استعانت کے معنی ہیں اعزاز۔گویا جب انسان بیچارگی کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تب اُس کو اعزاز حاصل ہوتا ہے۔اس لئے یہ ترتیب کہ خدا تعالیٰ نے پہلے عبودیت اور اس کے بعد استعانت کو رکھا ہے بالکل درست ہے اور جو لوگ اس ترتیب کو بدلنا چاہتے ہیں وہ اس نکتے کو سمجھے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ پہلے اپنے بندہ کی کامل بیچارگی ظاہر کرتا ہے اور بعد میں اس کی مدد کر کے دنیا کو دکھا دیتا ہے کہ میں کس طرح اپنے بندوں کی مدد کرتا ہوں۔اگر استعانت حاصل ہونے سے پہلے انسان پر بیچارگی طاری نہ ہو تو پھر استعانت کو بھی لوگ ایک اتفاقی امر سے زیادہ وقعت نہ دیں گے۔ہر انسان کا فرض ہے کہ استعانت کے اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔دنیا ہمیں کیا دے سکتی ہے اور کیا ہم سے چھین سکتی ہے۔دنیا ہم کو کچھ نہیں دے سکتی کیونکہ اس کے پاس دینے کو ہے ہی کیا اور دنیا ہم