خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 521

خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۶ ہو گیا۔کشتی تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اس انجینئر نے ایک تھیلی اُٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت ! اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی حرج نہیں۔دو قدم کشتی آگے بڑھی تو پھر اس نے ایک تھیلی اُٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا کہ بادشاہ سلامت! اس طرح روپیہ لگے گا بادشاہ نے کہا کوئی پرواہ نہیں۔تھوڑی دور آگے چلے تو اُس نے تیسری تحصیلی دریا میں پھینک دی اور پھر چوتھی اور پھر پانچویں۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ہزار ہزار روپیہ کی دوسو تھیلیاں دریا میں پھینک دیں اور ہر دفعہ یہی کہتا رہا کہ بادشاہ سلامت ! یوں روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ بھی یہی کہتا؟ رہا کہ پرواہ نہیں تم عمارت تیار کرو۔جب وہ انجینئر جمنا کے دوسرے کنارے پہنچا تو کہنے لگا با دشاہ سلامت! مقبرہ بن سکتا ہے اور یہ جگہ ہے جہاں مقبرہ بنے گا۔بادشاہ نے کہا آخر وجہ کیا ہے کہ دوسروں نے کہا ایسا مقبرہ نہیں بن سکتا اور تم کہتے ہو کہ بن جائے گا۔وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ انہوں نے حضور کے دل کا اندازہ نہیں لگایا تھا انہوں نے سمجھا کہ آپ اس قدر روپیہ کہاں خرچ کریں گے مگر میں نے آپ کے دل کا اندازہ لگالیا ہے اور میں سمجھ گیا ہوں کہ جب آپ دو لاکھ روپیہ کے ضائع ہونے پر چیں بہ جبیں نہیں ہوئے تو اس قسم کے مقبرہ پر بھی بے دریغ روپیہ خرچ کر دیں گے۔اگر آپ ان دو لاکھ کے ضائع ہونے پر چیں بہ جبیں ہو جاتے تو میں بھی کہہ دیتا کہ اس قسم کا مقبرہ نہیں بن سکتا۔اگر تاج محل کے بنانے کیلئے اتنے وسیع حو صلے کی ضرورت ہو سکتی تھی تو خدا تعالیٰ کیلئے ایک نئی زمین بسانے کیلئے کتنے وسیع حوصلہ اور کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ہمیں بھی اسی طرح اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کرنے پڑیں گے جس طرح اس انجینئر نے شاہجہاں کا روپیہ قربان کیا۔میں جانتا ہوں کہ ہر شخص کی عقل اتنی وسیع نہیں ہوتی کہ وہ قربانیوں کی حقیقت کو سمجھ سکے بعض تھڑ دے ہوتے ہیں وہ نہ دین کے پھیلانے کی عظمت جانتے ہیں، نہ قربانی کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں ، نہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہوتی ہے ان کی ایک ایک پیسہ پر جان نکلتی ہے اور دین کیلئے خرچ کرنا انہیں موت دکھائی دیتا ہے۔مگر وہ جو جانتے ہیں کہ کام کتنا بڑا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ قربانیاں اپنے اندر کیا عظمت و شان رکھتی ہیں ، جو خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے مقابلہ میں دُنیوی مال و متاع کو ایک حقیر اور ذلیل چیز قرار