خطبات محمود (جلد 17) — Page 507
خطبات محمود ۵۰۷ سال ۱۹۳۶ ضلالت اور گمراہی ہمارے ملک میں عام ہے کہ لوگ شیطانی قیاس کرتے ہیں اور بات کو خوب سمجھنے کے باوجود پھر بھی اپنے قیاسات دوڑاتے ہیں۔یہی لعنت ہے جو ان کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہے اور جس کی وجہ سے فرمانبرداری اور اطاعت کی روح ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتی۔جن بزرگوں نے یہ کہا ہے کہ پہلا قیاس شیطان نے کیا تھا در حقیقت ان کا بھی ایسے ہی قیاس سے مطلب تھا کہ بات واضح ہوتی ہے، حکم بین ہوتا ہے مگر اسے رڈ کر دیا جاتا ہے اور ایک راہ پیدا کر کے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یوں قیاس کیا تھا۔اسی قسم کا قیاس ہے جس نے آدم کے زمانہ سے ہی تباہی مچائی ہوئی ہے۔جب تک مؤمن کا مقام اس اطاعت اور فرمانبرداری کی حد تک نہ پہنچ جائے کہ جب اُس پر حکم واضح ہو جائے تو پھر چاہے اس کی حکمت اُسے سمجھ آئے یا نہ آئے اُس پر عمل کرے اس وقت تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔پہلا کام مؤمن کا یہ ہوتا ہے کہ جب اُسے کوئی حکم دیا جائے اور وہ اسے پوری طرح نہ سمجھ سکے تو اُس حکم کی وضاحت کرالے۔جیسے مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا یہ مقصد ہے کہ مصافحہ نہ ہو۔میں نے کہا نہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص سٹیشن پر نہ آئے۔اس حد تک ان کا پوچھنا بالکل جائزہ تھا بلکہ ماتحت کا فرض ہوتا ہے کہ جب اُسے کسی غلط فہمی کا اندیشہ ہوتو وہ پوچھ لے لیکن جب ما تحت دریافت کر چکے تو پھر جو بات اُسے کہی گئی ہو اُس کے متعلق اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اُس پر ایسی اطاعت اور فرمانبرداری سے عمل کرے کہ اس میں کسی اعتراض کی گنجائش نہ ہو اور نہ کو اس میں کسی قسم کا تخلف ہو۔آخر غور تو کرو کہ صحابہ میں اور تم میں خدا تعالیٰ نے کیوں فرق رکھا ہے۔اُن کو خدا تعالیٰ نے اُٹھایا اور چند سالوں میں ہی آسمان پر پہنچا دیا اور وہ لوگ جن کے بوٹ عربوں کی گردنوں پر تھے پندرہ بیس سال کے عرصہ میں ہی ان کی گردنوں پر عربوں کی جوتیاں رکھی گئیں۔یہ بات یونہی تو نہیں ہو گئی ان کے اندر فرمانبرداری کی روح تھی۔وہ جانتے تھے کہ فرمانبرداری اور اطاعت کسے کہتے ہیں ، وہ جانتے تھے کہ عقل سے کام کرنا کسے کہتے ہیں۔ان کا یہ حال تھا کہ رسول کریم ﷺے ایک دفعہ وعظ فرمارہے تھے آپ نے بعض لوگوں کو کناروں پر کھڑے دیکھا تو فرمایا بیٹھ جاؤ۔حضرت عبداللہ بن مسعود گلی میں سے مسجد کی طرف آرہے تھے ان کے کانوں میں جو نہی یہ آواز پڑی کہ بیٹھ جاؤ وہ وہیں بیٹھ گئے اور انہوں نے گھسٹ گھسٹ کر مسجد کے دروازہ