خطبات محمود (جلد 17) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۶ بعض باتوں اور فتووں میں ہمیں نرمی کر دینی چاہئے۔پھر غور کرو اُس وقت کتنی دقت ہوگی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں دنیا کے سامنے پیش کیا۔اُس وقت صرف چند آدمی آپ کے ساتھ تھے اور نبوت ، کفر و اسلام ، نمازوں اور شادیوں کی علیحدگی یہ مسائل پیش کرنے کیلئے کتنے بڑے دل گردے کی ضرور تھی۔پس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بروز کامل میں رحم اور بہادری کے دونوں نمونے موجود ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے صرف نقال بنایا ہے موجد نہیں۔ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہر چیز اور ہر دل پر محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر کھینچتے جائیں۔پس بہادر بنو کہ مؤمن بُزدل نہیں ہوتا اور حیم بنو کہ مؤمن ظالم نہیں ہوتا۔دنیا کیلئے ان دونوں چیزوں کا جمع ہونا مشکل ہے مگر ہمارے لئے آسان ہے کیونکہ ہمارے لئے بنی بنائی تصویر موجود ہے۔خدا تعالیٰ نے ان چیزوں کا خمیر کر کے محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں بھر دیا ہے اور خمیر سے اور خمیر اٹھالینا کو ئی مشکل نہیں۔آگ جلانا مشکل ہوتا ہے مگر جب جل جائے تو اس سے ہر شخص اپنی شمع روشن کر سکتا ہے۔نور پیدا کرنا خدا کا کام تھا جو اس نے کر دیا اب ہمارا کام صرف یہ ہے کہ آئیں اور اپنی شمعیں اس سے لگالیں۔پس اس طریق کو سمجھو کہ یہی فلاح کا طریق ہے اور خوب یا درکھو کہ جو بُز دل ہے وہ خدا کے رستہ سے کاٹا جائے گا۔جب تک تم ایسے بہادر نہ بن جاؤ کہ قید ، قتل، جلا وطنی سب مظالم کو برداشت کرنے کیلئے آمادہ ہو جاؤ اُس وقت تک تم خدا کے محبوب نہیں بن سکتے اور جو خدا کا محبوب نہیں بنتا وہ شیطان کا محبوب ہوتا ہے۔( الفضل ۲ اگست ۱۹۳۶ ء ) أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ (البقرة: ۲۱۵) ترمذی کتاب المناقب باب قوله عليه لو كان نبى بعدى لكان عمر التوبة: ١٠٠۔بخاری کتاب احادیث الانبياء باب حديث الفأر صلى الله بخاری کتاب فضائل اصحاب النبى علم باب مناقب سعد بن ابی وقاص ابوداؤد كتاب الجهاد باب في دعاء المشركين