خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 47

خطبات محمود ۴۷ سال ۱۹۳۶ء سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور رومیوں کو شکست ہوگئی اور نہ صرف رومیوں کو بلکہ اسیرانیوں کو بھی جن کی حکومت بھی رومی حکومت کے مقابل کی تھی مسلمانوں نے شکست دی۔ایک عیسائی مؤرخ مسلمانوں کے اس ایمان کو دیکھ کر لکھتا ہے کہ رسول کریم ( ع ) کے متعلق خواہ کوئی کچھ کہے مگر ایک بات سے متاثر ہوئے بغیر میں نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ میں اپنے خیال کی آنکھوں سے ایک مسجد دیکھتا ہوں جس کی چھت پر کھجور کی ٹہنیاں پڑی ہیں بارش ہوتی ہے تو وہ چھت ٹپکتی ہے اور اسی میں وہ لوگ نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں انہی کیچڑ سے لتھڑے ہوئے آدمیوں کو جن کے بدن پر پورے کپڑے بھی نہیں میں مسجد کے گوشہ میں بیٹھے ہوئے باتیں کرتے دیکھتا ہوں۔یہ بے سامان اور ظاہری علوم سے بے بہرہ لوگ اس امر پر باتیں کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ دنیا کو کس طرح فتح کر کے اپنے مزعومہ معیار تہذیب پر اسے لانا ہے۔وہ نہایت سنجیدگی سے یہ مشورے کرتے ہیں اور پھر ایک دن وہی ہو جاتا ہے جو وہ چاہتے تھے۔وہ دنیا کو فتح کر کے دکھا دیتے ہیں اور اس کا نقشہ ہی بدل ڈالتے ہیں۔پس یہ امر جب میری آنکھوں کے کی سامنے آتا ہے تو میں اس بات کو مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ محمد (ﷺ) کے پیچھے ضرور کوئی بڑی طاقت تھی اور آپ مسیحی مشنریوں کے قول کے مطابق دھوکا باز انسان ہرگز نہ تھے۔پس جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ۲۵ لاکھ کی رقم جماعت کے لحاظ سے زیادہ ہے انہوں نے احمدیوں کے ایمان کا اندازہ نہیں کیا اور جو ہندوؤں اور عیسائیوں کی طاقت سے واقف ہونے کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس قلیل رقم سے کیا بنے گا وہ خدا تعالیٰ کی طاقت سے ناواقف ہیں اور ان سے میں کہتا ہوں کہ ہماری فتح اس روپیہ سے نہیں بلکہ اُس ایمان اور اخلاص سے ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے دلوں میں پیدا کیا ہے۔منافق اپنے دل کو دیکھتا ہے اور اپنے ایمان کو دیکھ کر محسوس کرتا ہے کہ اس میں تو اتنی طاقت نہیں کہ پہاڑوں کو گرا سکے اور سمندروں کو خشک کر سکے۔یہی نوجوان جو باہر گئے ہیں ان میں سے ایک کی بات سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔اُس کی نے کہا کہ ہم سے تین سال کا معاہدہ لیا گیا ہے اس میں بھی کوئی مصلحت ہو گی مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تین سال تک خدا کا سپاہی رہنے کے بعد کوئی یہ خیال بھی کس طرح کر سکتا ہے کہ وہ پھر