خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 44

خطبات محمود ۴۴ سال ۱۹۳۶ء نظام گزشتہ زمانوں سے بالکل مختلف ہے۔اس زمانہ میں ہمارا اُن دشمنوں سے مقابلہ ہے جن کے حملوں کی بنیا دسرمایہ داری پر ہے اس لئے ہم محاذ جنگ خواہ کتنا ہی تبدیل کیوں نہ کریں پھر بھی اس کی کا خیال رکھنا ہی پڑتا ہے۔آج عیسائی مبلغ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور کروڑوں روپیہ ہر سال ان پر خرچ ہوتا ہے۔پس اگر اسی رنگ میں ہم بھی ان سے مقابلہ کیلئے تیار نہ ہوں باوجود اس کے کہ ہمارے پاس سچائی ہے وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں گے۔اسلامی رنگ میں ہمارا کام اس طرح ہونا چاہئے کہ روپیہ کے بغیر بھی چل سکے جیسا کہ تحریک جدید میں میں نے مطالبہ کیا ہے۔لیکن ایک حصہ پھر بھی ایسا رہ جائے گا کہ دشمن کے حملہ کو مدنظر رکھتے ہوئے روپیہ کی ضرورت رہے گی۔ہمیں کچھ نہ کچھ تنخواہوں والے مبلغ بھی رکھنے پڑیں گے جیسا کہ تحریک جدید میں بھی میں نے بعض عالم رکھے ہیں جوضرورت کے وقت باہر جا کر کام کر سکیں۔مثلاً تحریک جدید کے ماتحت تبلیغ کیلئے جانے کی والوں کے ساتھ بعض اوقات لوگ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اچھا ہم بھی اپنے علماء کو بلاتے ہیں تم بھی بُلا لو تا مباحثہ ہو جائے اور ایسے مواقع کیلئے آٹھ دس علماء کا رکھنا بھی ضروری ہے۔پس دشمن کی وجہ سے ہم مجبور ہیں کہ ایک حصہ کا کام ایسا بھی رکھیں جو اس حملہ کے ہم رنگ ہو۔فی زمانہ جن دشمنوں سے ہمارا مقابلہ ہے وہ مالی لحاظ سے اتنے مضبوط ہیں کہ کئی کئی کروڑ رو پیدان کے پاس ہے۔اس وقت باون ہزار پرائسٹنٹ مشنری کام کر رہے ہیں اور پونے تین لاکھ رومن کیتھولک۔گویا گل مشینری سوا تین لاکھ ہیں جو عیسائیت پھیلانے کیلئے دنیا میں مقرر ہیں۔اگر ان میں سے ہر ایک دس دس آدمیوں کو بھی عیسائی بنائے تو سال بھر میں ۳۵لاکھ عیسائی بنا سکتے ہیں۔پھر ان کی جائدادوں کو اگر لیا جائے تو وہ بھی بہت ہیں۔ہماری جماعت تو چونکہ غرباء کی جماعت ہے اس لئے وہ لاکھوں کا کی نام سننے کے عادی نہیں اس وجہ سے بعض دوست شاید یہ بھی خیال کریں کہ ۲۵ لاکھ روپیہ کس طرح جمع ہوسکتا ہے۔لیکن اگر وہ میری سنیں اور سب ایک معیار پر آجائیں تو چھ ماہ کے عرصہ میں ۲۵ لاکھ روپیہ جمع ہوسکتا ہے۔میرا اصول تو یہ ہے کہ جماعت کو ایک رنگ میں آہستہ آہستہ آگے بڑھانا چاہئے ورنہ ۲۵ لاکھ روپیہ تو چھ ماہ کے عرصہ میں جمع ہو سکتا ہے۔ہاں تو دشمنوں کی مالی حالت کا میں ذکر کر رہا تھا۔ساری دنیا کی طاقت تو الگ رہی صرف لاہور کے عیسائی مشن کی جائداد ہی میرا خیال ہے اسی نوے لاکھ روپیہ کی ہوگی اس سے زیادہ ہو تو ہو کم تو کسی صورت میں نہیں اور اس کے ساتھ