خطبات محمود (جلد 17) — Page 421
خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۳۶ کہ ہمارے مُردے احمدی مُردوں کے ساتھ دفن ہونے سے ناپاک ہو جاتے ہیں، آپ نے یہاں کی اٹھارہ گھماؤں زمین خریدی ہوئی ہے قادیان کے مرزا صاحب روپیہ دیتے ہیں جو آپ لے کر ایک گھماؤں زمین ہمارے قبرستان کیلئے الگ کر دیں۔اگر مرکز احرار اس پر تیار ہو تو وہ سرکاری طور پر زمین رجسٹری کرا کر روپیہ مجھ سے لے لیں۔اگر ایک گھماؤں سے زیادہ حق ثابت ہو تو اتنی زمین کی قیمت مجھ سے لے لیں۔یہ قبرستان ان کیلئے بہت زیادہ پاکیزگی کا موجب ہوگا کیونکہ احرار کے رو پیر اور مقدس لوگوں سے خریدی ہوئی زمین میں ہوگا اور اگر ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ احراری منہ سے ان کو پا کی اور ناپا کی تو بتاتے ہیں مگر اس کے حاصل کرنے میں ان کی کوئی مدد نہیں کرتے اور انہیں پتہ لگ جائے کہ وہ چندوں کا روپیہ اپنی جیبوں میں ڈالنا اور اپنے کام میں لانا چاہتے ہیں مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے تو وہ مجھے لکھ دیں کہ احرار ہماری مدد کیلئے تیار نہیں اور قیمتا بھی ہمیں جگہ نہیں دیتے۔اس کے بعد میں ایک گھماؤں یا اس سے زیادہ جتنی ان کے حصہ میں آتی ہو اپنی زمین میں سے یا خرید کر پہلے قبرستان سے الگ مگر اسی طرف ان کو دے دوں گا۔پھر وہ ہے خاندان اس قبرستان میں دفن ہو سکیں گے کسی اور قبرستان میں دفن کرنے کا ان کو حق نہ ہوگا۔ہاں ایک شرط ضروری ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ احرار نے قیمت زمینداروں کو دی کم ہے مگر لکھوائی زیادہ ہے اس لئے انہیں حلفیہ بیان دینا ہوگا کہ ہم نے اتنی ہی قیمت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے کے بعد وہ جتنی قیمت بتائیں گے میں دے دوں گا۔اگر تھوڑی دی ہوگی تو اتنی ہی مجھ سے لے لیں۔میں نہیں سمجھتا دنیا کوئی انسان اس سے زیادہ حسنِ سلوک کسی سے کر سکتا ہے۔حکومت مائی باپ کہلاتی ہے مگر وہ بھی ایسا سلوک نہیں کرتی بلکہ ہمیں آنکھیں دکھاتی۔اور کہتی ہے کہ تمہارے پاس کئی قبرستان میں تم اس قبرستان میں اپنا حق چھوڑ دو اور یہ قبرستان ان کی یوں کیلئے رہنے دو۔کوئی پوچھے کہ صاحب حیثیت وہ ہے یا میں ہوں ؟ وہ سارے ہندستان کی مالک ہے، افریقہ اور دوسرے براعظموں میں بھی اس کی ملکیت ہے، ایک چھوٹے سے بنجر علاقہ سے نکل کر وہ ساری دنیا میں پھیل گئی ہے، اگر ان لوگوں کا درد اسے اس قدرستا رہا ہے تو کیوں اپنے پاس سے ان کو زمین نہیں دے دیتی۔پھر احراری آٹھ کروڑ مسلمانوں کے نمائندے ہیں اور ان کے بھائی ہیں وہ کیوں مدد نہیں کرتے لیکن میں تو پھر بھی تیار ہوں اگر ان کے مائی باپ یعنی