خطبات محمود (جلد 17) — Page 413
خطبات محمود ۴۱۳ ۲۳ سال ۱۹۳۶ قادیان کے احرار اپنے مُردوں کو ”پاک“ رکھنے کیلئے علیحدہ قبرستان بنانے کیلئے روپیہ باز مین لے لیں (فرموده ۲۶ جون ۱۹۳۶ء) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - میرے گلے کی تکلیف ابھی تک بڑھتی چلی جارہی ہے اس وجہ سے میں درس بھی نہیں دے سکتا اور اب تو خطبہ بیان کرنا بھی سخت مشکل نظر آتا ہے گلے میں ایک ایسی تکلیف پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے آواز بولنے کے بعد بھر آ جاتی ہے اور پھر اونچا نہیں بولا جا سکتا اور گلے کے بائیں طرف کا حصہ ایساسن معلوم ہوتا ہے جیسے جسم کا کوئی حصہ سویا ہوا ہوتا ہے۔پس ان حالات میں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اپنی آواز دوستوں تک پہنچا سکوں گا یا نہیں اور کہ اپنے مضمون کو کماحقہ ادا کرسکوں گا یا اختصار سے کام لینا پڑے گا۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے بعض خیالات کا اظہار اس قبرستان کے متعلق کیا تھا جو قادیان کا بڑا قبرستان کہلاتا ہے اور جس میں قریباً ہر خاندان کے کچھ افراد مدفون ہیں۔میں نے ذکر کیا تھا کہ اس قبرستان میں ہمارا ویسا ہی حق ہے جیسے دوسروں کا اور کسی کو یہ حق نہیں کہ ہماری جماعت کے مُردوں کو وہاں دفن ہونے سے روکے اور اپنے اس حق کو حاصل کرنے سے ہم کسی صورت میں باز نہیں رہ سکتے۔اگر وہاں کسی کے دفن ہونے پر کسی کو اعتراض ہوسکتا ہے تو وہ ہمیں