خطبات محمود (جلد 17) — Page 4
خطبات محمود ۴ سال ۱۹۳۶ء ملنا جلنا بھی ہوتا ہے اس کا ذکر میں نے خطبہ میں اس لئے کر دیا ہے کہ تا آئندہ اصلاح ہو۔اس میں شبہ نہیں کہ اصرار بھی محبت پر دلالت کرتا ہے لیکن محبت میں معقولیت ہونی ضروری ہے۔صحابہ کو رسول کریم ﷺ سے عشق تھا لیکن اگر وہ آپ کو پکڑ لیتے کہ گھر میں نہیں جانے دیں گے آپ گھر جاتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے تو یہ اُن کا عشق تو کہلا تا مگر غیر معقول۔تو محبت کو ایک حد تک ظاہر کرنا چاہئے اور پھر اپنی غلطی کی وجہ سے اسے دل میں رکھ کر احساسات کے صدمہ کو برداشت کرنا چاہئے اور سزا بھگتنی چاہئے۔اگر آج میں چلا جا تا تو آئندہ بھی اسی طرح ہوتا اس لئے میں ایک نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ ایسے امور میں عقل سے کام لینا چاہئے۔میری رائے یہی ہے کہ بہت سے جرائم معاف کئے جاسکتے ہیں مگر بیوقوفی کا جرم معاف نہیں کیا جا سکتا۔میری تو سمجھ میں بھی یہ نہیں آتا کہ انسان غلطی کے باوجود یہ سمجھے کہ نتیجہ ٹھیک نکلے گا اور کہ میں اس کی سزا سے بچ جاؤں۔شاید سزا کے لفظ سے بعض لوگوں نے بید کی بدنی سزا سمجھ لی ہے حالانکہ سزا صرف یہی نہیں بلکہ جذبات اور احساسات کی سزا بھی سزا ہی ہے۔یہ بھی سزا تھی کہ میری شرکت کے بغیر ہی وہ پارٹی کر لیتے یا ایڈریس وغیرہ پروگرام منسوخ کر دیتے یہ جذبات اور احساسات کی سزا تھی۔غلطی کے باوجو د سزا سے بچنے کی کوشش کرنا انسان کو اخلاقی معیار سے نیچے گرا دیتا ہے اور غلطی سے بچنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ انسان اگر غلطی کرے تو اس کی سزا بھی بھگتے خواہ وہ سز امادی ہو یا جذباتی۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ نیا سال شروع ہوا ہے اور اس کا یہ پہلا جمعہ ہے اس لئے میں پھر بعض باتوں کو دُہرا دیتا ہوں جو میرے نزدیک اہم اور ضروری ہیں۔اول تو یہ کوئی میرا پروگرام خواہ وہ ایک سال میں پورا ہو خواہ چار پانچ سال میں ، یہ ہے کہ کوئی ملک دنیا کا ایسا نہ ہو جس میں تابعی یعنی ایسے لوگ موجود نہ ہوں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو دیکھا ہے۔اس وقت دنیا کے قریباً ایک ہزار ممالک ہوں گے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچادیں۔ملک کی تشریح ی میں حکومتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ زبان کے لحاظ سے کرتا ہوں اور مختلف زبانوں کے لحاظ سے اس وقت شاید ایک ہزار سے بھی زیادہ ممالک ہوں گے اور ان میں سے صرف ساٹھ ستر ہی ہیں جن تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی خبر پہنچی ہو۔باقی ۹۰۰ سے زیادہ ابھی تک ی