خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 3

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء ۲۵ منٹ دے سکتا ہوں۔یہ جواب لے کر وہ گیا اور پچیس منٹ کے بعد پھر آیا کہ ہم نے زنانہ جلسہ کی منتظمات سے فیصلہ کر لیا ہے وہ اپنے وقت میں سے پچیس منٹ ہم کو دیتی ہیں۔میں نے کہا ان کا کی کوئی اختیار نہیں کہ میرا پروگرام تجویز کریں۔اب صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے ہیں اگر چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ میں جاؤں اور دعا کر کے آجاؤں۔یہ جواب لے کر وہ پھر چلا گیا اور پھر واپس آکر کہا کہ اچھا ہم شام کو پارٹی کر لیں گے۔اب کوئی شخص اس بات کو معقول نہیں قرار دے سکتا کہ ڈیڑھ سو آدمی کو ڈیڑھ دو گھنٹہ بٹھانے کے بعد یہ کہہ دیا جائے کہ صاحبان ! آپ لوگ شام کو تشریف لائیں اور اب چلے جائیں۔پہلی غلطی کے بعد منتظمین کو چاہئے تھا کہ اس کا خمیازہ خود بھگتے اور یا تو سارا پروگرام اور ایڈریس وغیرہ منسوخ کر کے مجھے لے جاتے کہ اصل چیز دعا ہی ہے دعا کروالیتے اور یا عقل سے کام لیتے اور ان مہمانوں سے کہہ دیتے کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ہمیں بڑی خوشی ہوتی اگر خلیفہ اسی شریک ہو سکتے مگر چونکہ ہماری غلطی کی وجہ سے وہ نہیں آسکے اس لئے آئیے ہم خود ہی ایڈریس وغیرہ پڑھ کر چائے وغیرہ پی لیتے ہیں۔یہ کوئی جہاد تو نہیں تھا کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ا کے ماتحت امام کے بغیر نہ ہو سکتا۔چائے بغیر امام کے بھی پی جاسکتی ہے ایک ادنی سی بات کیلئے اتنے لوگوں کا اس قدر وقت ضائع کرنا بالکل نامناسب تھا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اُن لوگوں کا بھی فرض تھا کہ کی جب دس بجتے وہ کہہ دیتے کہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ اب ہم جاتے ہیں تا آئندہ کے لئے اصلاح ہوتی لیکن منتظمین نے کوشش یہ کی کہ ان کی غلطی کا خمیازہ دوسرا بھگتے اور قسم قسم کی باتوں سے بات کو طول دیا۔مثلاً یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم نے فوٹو اُتروانا تھا ، یہ کرنا تھا وہ کرنا تھا ، حالانکہ یہ بچوں کی سی باتیں تھیں۔اگر وہ چاہتے تو ۲۵ منٹ میں دعا بخوبی ہو سکتی تھی۔وہ ایڈریس اور فوٹو وغیرہ سب باتوں کو منسوخ کر دیتے اور کہہ دیتے کہ چائے پی کر دعا کر لی جائے۔یا اگر ان کو یہ پسند نہ تھا تو پھر ان ڈیڑھ سو لوگوں کا وقت ضائع نہ کرتے اور میری شمولیت کے بغیر پروگرام کے مطابق کارروائی کر لیتے لیکن انہوں نے ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہ کی۔پونے دس بجے ان کا آدمی آیا اور سوا گیارہ بجے تک یہ بحث جاری رہی اور اس طرح ڈیڑھ گھنٹہ تک ڈیڑھ سو لوگوں کو وہاں بٹھائے رکھا گیا حالانکہ جمعہ کا دن تھا لوگوں نے نہانا دھونا بھی تھا پھر چھٹی کے دن عزیز واقارب۔