خطبات محمود (جلد 17) — Page 36
خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۳۶ء ہوئے اگر تم دنیا میں تھوڑے دن بھی جیو اور غیرت کی موت مرو تو تمہاری آنے والی نسلیں فخر سے پنی گردنیں اونچی کریں گی اور کہیں گی کہ ہم ان کے فرزند ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے دیں مگر بے غیرتی کی زندگی کو قبول نہ کیا۔کیوں بعض حکام کو یہ جرات ہوئی کہ وہ تم پر حملہ کریں؟ اس لئے کہ تم تھوڑے ہوا اور کمزور ہو۔کیوں احرار کو یہ جرات ہوئی کہ وہ تم پر حملہ کریں؟ اس لئے کہ تم تھوڑے ہو اور کمزور ہو۔پس اب جاؤ اور دنیا میں نکل کر طاقت حاصل کرو، جاؤ اور دنیا میں نکل کر اپنی تعداد کو بڑھاؤ، یہاں تک کہ دنیا کا کوئی شخص تمہیں تھوڑا نہ کہہ سکے، یہاں تک کہ دنیا کا کوئی شخص تمہیں کمزور نہ کہہ سکے۔کیا تم نہیں جانتے کہ وہ لوگ جنہیں اپنے مستقبل کے متعلق کوئی امید نہ تھی انہوں نے دنیا میں کس قدر قربانیاں کیں۔انگلستان سے کس نے وعدہ کیا تھا کہ اسے بادشاہت دے دی جائیگی؟ کسی نے بھی نہیں۔مگر تمہارے ساتھ تو اُس خدا کا وعدہ ہے جو تمہارا خالق و مالک ہے اور خدا تعالی سے بڑھ کر اور کون زیادہ سچا ہو سکتا ہے۔پھر فرانس کے لوگوں سے کس نے کہا تھا کہ ان کو بادشاہت دی جائے گی؟ جرمنی سے کس نے وعدہ کیا تھا کہ اسے ترقی دی جائے گی ؟ ان کے ساتھ کوئی وعدہ نہ تھا صرف انہوں نے غیرت دکھائی اور دنیا میں عزت حاصل کر لی۔مگر تمہارے متعلق تو خدا تعالی کا وعدہ ہے کہ تمہیں دنیا میں غلبہ دیا جائے گا۔پس تم اگر اس غرض کیلئے باہر نکلتے ہو تو تم وہ کام کرتے ہو جس کے متعلق آسمان پر فرشتے تمہارے لئے تیاریاں کر رہے ہیں۔پس تم اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ قابل بناؤ ، زیادہ سے زیادہ لائق بناؤ، نہ صرف دین میں بلکہ دنیا کے ہر کام ہرفن اور ہر پیشہ میں۔یہاں تک کہ کوئی میدان ایسا نہ ہو جس میں احمدیہ جماعت کے افراد سے زیادہ لائق افراد دنیا میں مل سکیں۔سب سے کامل لو ہار تم بنو، سب کامل نجار تم بنو، سب سے کامل معمار تم بنو ، سب سے کامل کیمسٹ تم بنو ، سب سے کامل ڈاکٹر تم بنو، سب سے کامل صناع تم بنو، سب سے کامل کپڑے ملنے والے تم بنو، سب سے کامل مشینیں بنانے والے تم بنو اور جب تم اس ارادہ اور عزم سے کھڑے ہو گے اور دنیا کے ممالک میں نکل جاؤ گے تو خدا تعالی کے فرشتے تم پر برکتیں نازل کریں گے اور تم جو کام بھی کرو گے خواہ وہ بظاہر دنیا کا نظر آتا ہو اس کے بدلہ میں تم ثواب پاؤ گے کیونکہ ہر قدم جو تم اُٹھاؤ گے اس لئے اُٹھاؤ گے کہ خدا تعالیٰ کی بہ