خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 306

خطبات محمود ۳۰۶ سال ۱۹۳۶ء کیوں ؟ یہیں پھانسی پر لٹکا ئیں گے۔یہ وہ دشمن ہے جو تمہارے گر دیگھیرا ڈال رہا ہے، روز بروز زیادہ منظم ہورہا ہے اور طاقت پکڑ رہا ہے چاہے وہ احرار کی صورت میں ہو اور چاہے کسی اور صورت میں ہو شیطان کو اس سے غرض نہیں کہ اس کا نام احراری رہے۔تمہاری نظر مجلسوں پر ہے اور تم سمجھتے ہو مجلس احرار کو کل جو طاقت حاصل تھی وہ آج نہیں حالانکہ میں نے بار بار کہا ہے کہ تمہارا مقابلہ احرار سے نہیں شیطان سے ہے۔مجھے یاد ہے ہم میں سے بعض کہا کرتے تھے کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کی طاقت ٹوٹ گئی ہے مگر اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کی طاقت زیادہ تھی یا احرار کی۔اسی طرح اب بعض یہ خیال کر رہے ہیں کہ احرار کی طاقت ٹوٹ گئی ہے اب ہم سو جائیں۔مگر یا درکھو تمہارے لئے سو نا مقدر نہیں ہے تم یا تو جاگو گے اور یا مرو گے یہ ممکن نہیں کہ لبی دیر تک سو سکو۔جب سوؤ گے مرو گے یہ سچائیاں ہیں جو ہر نبی کے زمانہ میں ظاہر ہوئیں۔قرآن کریم کو پڑھو اس کا ایک ایک لفظ اس کی تصدیق کرے گا۔پھر کیا تمہیں اس پر بھی اعتبار نہیں کہ سمجھتے ہو تمہارے ساتھ ویسا نہ ہوگا۔حضرت آدم ، حضرت ابراہیم ، حضرت نوح ، حضرت موسی ، حضرت داؤد اور حضرت عیسی علیہم السلام اور سب سے آخر آنحضرت ﷺ کے وقت جو کچھ ہوا کیونکر ممکن ہے کہ وہ پیالہ تم کو نہ پینا پڑے وہ ضرور پینا پڑے گا۔اگر منہ سے نہیں پیو گے تو نلکیوں کے ذریعہ نتھنوں کے رستہ پلایا جائے گا اور اگر اس طرح بھی نہیں پیو گے تو پیٹ چاک کر کے پلایا جائے گا۔دشمن اس فکر میں ہے کہ تم کو ہندوستان سے نکال دے اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار اس کے منہ سے ہو گیا اس کے دل میں جو کچھ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور تم اس خیال میں ہو کہ ایک حکومت جو قانون کی پابند ہے اور وہ تمہارے حفاظت کرے گی۔اس حکومت کے ایک حصہ نے بتا دیا ہے کہ جب وہ پکڑے گی قانون بھی مٹ جائے گا بھلا وہ کونسا قانون تھا جس کے ماتحت ایک افسر نے دوسکھ نمبرداروں کو بلا کر یہ کہا کہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خلیفہ قادیان نے تم کو بلا کر پچاس پچاس روپے دیئے تھے کہ عید گاہ کے کیس میں شہادت بدل دو اور اس طرح انہیں جھوٹ بولنے کی تحریک کی اور ایک دوسرے افسر نے ملاقات کے وقفہ میں صاف لفظوں میں ان کو ایسی گواہی دینے کا مشورہ دیا۔کیا اِس امر کا کروڑواں بلکہ ار بواں کھر بواں حصہ بھی سچ ہے؟ اور انگریزی حکومت کے بعض افسر اگر اتنا جھوٹ بول سکتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ بعض دوسرے افسر