خطبات محمود (جلد 17) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۶ء تھے اور فوت ہو چکے ہیں مگر تم میں سے بعض ایسے بے غیرت ہیں کہ سمجھتے ہیں انگریز ہمیشہ رہیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے اور اگر یہی حالت رہی تو یا درکھو کہ انگریزی حکومت تو کسی دن جاتی ہی رہے گی مگر ساتھ ہی وہ ایسے لوگوں کو بھی لے ڈوبے گی۔صرف خدا زندہ ہے اور وہی زندہ رہے گا جس کا وہ سہارا ہے۔باقی حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں ان کے نقطہ ہائے نگاہ بھی بدلتے رہتے ہیں مستقبل کا کسی کو کیا علم ہو سکتا۔آج سے تین سو سال پہلے کسی کو کیا علم تھا کہ انگریزوں کی حکومت اتنی وسیع ہو جائے گی اور کون کہہ سکتا ہے کہ آج سے سو سال بعد ان کی یہ حکومت افسانہ بن کر نہ رہی جائے گی۔خوب یا درکھو کہ انگریز بھی تبھی زندہ رہ سکتے ہیں جب وہ خدائے واحد سے تعلق پیدا کریں اور اسی پر توکل کریں اور تم بھی اسی طرح زندہ رہ سکتے ہو۔زندگی کے سامان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ جس طرح پہلی قو میں تباہ ہوگئیں انگریز بھی ہو جائیں گے۔اس میں شک نہیں کہ اگر یہ جھوٹ اور فریب پر اپنی حکومت کی بنیاد رکھیں گے، انصاف کے مقابلہ میں پر سٹیج کا زیادہ خیال رکھیں گے تو جس طرح روما اور کسریٰ کی عظیم الشان سلطنتیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہو جائیں گے لیکن اگر یہ سچ پر قائم ہوں، انصاف کریں اور خدا سے تعلق پیدا کر کے اُسی پر تو کل رکھیں تو ان کی جو پچھلی زندگی ہے اس سے بہت زیادہ لمبی زندگی انہیں مل سکتی ہے مگر پھر بھی وہ تمہارا سہارا نہیں بن سکتے۔تم خدا کی جماعت ہو اور خدا کو تمہارے لئے غیرت ہے۔جس طرح کوئی شخص اپنی بیاہتا بیوی کو کسی غیر کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پھرتا دیکھے تو اُسے غیرت آتی ہے اسی طرح خدا کو غیرت آتی ہے جب اس کی جماعت کسی غیر کا سہارا لے۔پس انگریز اگر ہمیشہ بھی رہیں تو وہ تمہارا سہارا نہیں بن سکتے۔باقی رہے دوسرے دشمن ان کا نقشہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمُ اكْبَرُ ، ان کا بغض ان کے مونہوں سے ظاہر ہو گیا ہے اور جو دلوں میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔امرتسر میں احرار کی جو کا نفرنس ہوئی ہے اس میں اس امر پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ہمارا کام ہندوستان سے انگریزوں کو نکالنا ہے اور اس کے ساتھ سب احمدیوں کو بھی۔یہ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ہے لیکن ان کے دلوں میں جو ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ نکالیں گے