خطبات محمود (جلد 17) — Page 271
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء دعوی کیا تو انہوں نے سمجھا کہ یہ شخص ہم سے بڑا ہو گیا ہے اس لئے مخالفت شروع کر دی۔اگر آپ دعوے سے پہلے علماء کو بُلاتے ، اُن کی دعوت کرتے اور پھر پوچھتے کہ اسلام پر جو اس قدر مصیبت کے ایام ہیں آپ لوگوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور اس سے عیسائیوں کو اسلام کے خلاف بہت تقویت حاصل ہوتی ہے۔آپ صاحبان اس کا کوئی حل سوچیں تو وہ ضرور کہتے کہ آپ ہی اس کا کوئی حل سوچئے۔اس پر آپ کہہ دیتے کہ اگر ہم کہہ دیں کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں تو اس مشکل سے نجات حاصل ہو سکتی ہے اور وہ ضرور کہہ دیتے کہ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے سُبحَانَ اللهِ کیا نکتہ نکالا ہے۔پھر آپ کہتے کہ ایک مشکل یہ ہے کہ جب ہم ان کی وفات کا اعلان کریں گے تو عیسائی کہیں گے کہ احادیث میں تو ان کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی ہے اس کا بھی کوئی جواب ہونا چاہئے وہ ضرور پھر یہی کہتے کہ اس کا بھی کوئی جواب آپ ہی فرمائیں تو آپ کہہ دیتے کہ اس کا علاج یہی ہے کہ ہم کہہ دیں آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا۔اس پر پھر وہ یہی کہتے کہ سُبحَانَ اللہ کیا اچھی بات نکالی ہے۔پھر آپ کہتے کہ اب صرف ان کا ایک اعتراض رہ جاتا ہے کہ جب سب علامتیں پوری کی ہو چکی ہیں تو آنے والا کہاں ہے؟ آپ لوگ رسول کریم ﷺ کی گدی پر بیٹھے ہیں اپنے میں سے کسی کے متعلق فیصلہ کر دیں کہ وہ مثیل مسیح ہے تا عیسائیوں کے اس اعتراض کا جواب بھی ہو جائے کی اور اسلام کو ترقی نصیب ہو۔مولوی تو چونکہ سخت حاسد ہوتے ہیں وہ کیا مجال جو اپنے میں سے کسی کو مان لیتے ضرور یہی کہتے کہ آپ سے بہتر کوئی شخص نہیں۔یہ سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر انسانی منصوبہ ہوتا تو میں ضرور ایسا ہی کرتا مگر مجھے تو میرے خدا نے جو کہا میں نے لوگوں کو سنا دیا۔یہی حال انبیاء کی امتوں کا ہوتا ہے وہ جب صداقت کو لے کر کھڑی ہوتی ہیں تو یہ نہیں دیکھا کرتیں کہ ہمارے دائیں کون ہے اور بائیں کون ہے وہ صداقت کو لے کر دنیا میں آتی ہیں اور لوگ خواہ اُن کو ماریں، پیٹیں، قتل کر دیں بلکہ قیمہ کر دیں، جلا دیں، ڈبو دیں پیچھے نہیں ہمتیں۔پس یہ جذبہ اگر ہمارے نوجوانوں میں اور جماعت میں پیدا ہو تو پھر وہ لوگ ہم میں سے پیدا ہوں گے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر چالیس مؤمن مجھے مل جائیں تو میں دنیا کو فتح کرسکتا ہوں ہے۔