خطبات محمود (جلد 17) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۳۶۔پس حکومت اس کا فیصلہ دو طرح کر سکتی ہے ایک تو اس فیصلہ کو ضبط کرلے اور دوسرے جماعت احمدیہ کو اجازت دے کہ اس کا جواب کتاب کی صورت میں لکھ دیا جائے جس میں واقعات کی صحیح صورت پر بحث کر کے جواب دیا جائے اور اس میں عدالت کی شخصیت پر بحث نہ ہو پھر جس جگہ بھی اعتراض ہوگا وہاں کے احمدی اس کتاب میں سے دیکھ کر جواب دے دیں گے۔اس کے بعد میں نیشنل لیگ والوں کو حکم دے دوں گا کہ وہ آئندہ اس بارہ میں کچھ نہ کرے۔یہ دو تجویزیں میں نے کی بہت غور سے سوچی ہیں اور ان پر راضی ہو جانے میں بھی میں نے بہت قربانی کی ہے اور حکومت کی اگر میری طرح قربانی نہیں بلکہ صرف انصاف کرنے کیلئے تیار ہو تو یہ قضیہ نامرضیہ جو حکومت اور ہمارے دونوں کیلئے مشکلات کا موجب ہو سکتا ہے مٹ جائے گا۔لیکن اگر حکومت ان دونوں تجویزوں کو نہ مانے تو پھر وہ اپنی طرف سے کوئی تجویز بتا دے میں اس پر غور کروں گا لیکن اس کا فرض ہے کہ وہ یا تو میری تجویز مان لے اور یا پھر اپنی طرف سے کوئی ایسی تجویز بتائے جس سے ی اس فیصلہ کا ضرور دور ہو سکے اور اگر اس کی تجویز معقول ہوئی تو میں اس کو ضرور مان لوں گا۔لیکن اگر کوئی صورت نہ ہوا اور حکومت نہ تو خود کوئی تجویز بتائے اور میری پیش کردہ تجویز کے متعلق بھی کہے کہ تم تو رعایا کے ایک فرد ہو تم ایسی تجویزیں پیش کرنے والے کون ہو تو پھر اس کا کی کوئی علاج میرے پاس نہیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔میرا صرف یہ کام تھا کہ ایک اچھے شہری کی کی حیثیت سے امن کی بہتر صورت پیش کر دوں اور ساتھ یہ بھی کہہ دوں کہ اگر حکومت کوئی اور کی تجویز بتا دے تو میں اپنی بات چھوڑ دوں گا لیکن اگر حکومت دونوں میں سے کوئی بات بھی نہ کرے تو پھر میں یہی کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ایسی ہے اور ملک کا امن برباد ہونے والا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فساد مقدر ہو تو ادھر رعایا میں سے بعض لوگوں کے دماغ کی میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور ادھر حکومت اپنے رویہ کو بدلنے کیلئے تیار نہیں ہوتی اس لئے صرف کی یہی تدبیر باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور کہیں کہ ہم تو امن چاہتے ہیں مگر جن کی رستوں کو کھولنا ہمارے اختیار میں نہیں ، انہیں تو خود ہی کھول دے اور ہمیں تو فیق عطا فرما کہ ہماری سلسلہ کی روایات کو بھی قائم رکھ سکیں ، قانون کا احترام بھی نہ چھوڑیں اور اس خدا کے پیارے کی عزت بھی قائم کرسکیں جس کی عزت قائم کرنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک اپنی اور اپنے تمام