خطبات محمود (جلد 17) — Page 20
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء شخص مراد ہے کہتا ہوں کہ باہر نکلیں۔دراصل انسان ہر عمر میں نو جوان رہ سکتا ہے اور نو جوان رہنا اپنے اختیار کی بات ہوتی ہے۔کئی لوگ جوانی میں ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہیں اور کہتے ہیں ہائے جوانی ! اور کئی ستر اسی سال کی عمر ہونے کے باوجود ہٹے کٹے ہوتے اور اپنے آپ کو جوان محسوس کرتے ہیں۔پس جوانی عمر کے ساتھ نہیں بلکہ امیدوں ، حوصلوں اور اُمنگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔جو شخص جو ان رہنا چاہتا ہے اُسے کوئی بوڑھا نہیں کرسکتا۔بوڑھا انسان اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔غرض جب میں یہ کہتا ہوں کہ نوجوان با ہر نکلیں تو اس سے میری مراد دل کے نو جوان ہیں نہ سالوں کے۔اور میں ایسے سب احمدیوں سے کہتا ہوں کہ اس تحریک کو نظر انداز نہ کریں۔خدا تعالیٰ نے جب ساری دنیا ان کیلئے مسجد بنادی ہے تو اب ان کو اپنی میراث سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر سو دو سو نو جوان بھی ہماری جماعت کے غیر ممالک میں نکلی جائیں تو تھوڑے ہی دنوں میں وہ معلوم کر لیں گے اور جماعت کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ باہر بہت سی عزتیں موجود ہیں۔غیر ملک میں جانے پر قدرتی طور پر اُس ملک کے رہنے والوں کو باہر سے آنے والی کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور وہ آنے والے کے متعلق سمجھنے لگتے ہیں کہ نا معلوم اپنے ملک میں اُس کی کتنی بڑی عزت ہے۔عربوں کو دیکھ لو جب ان میں سے کوئی پنجاب میں آتا تو لوگ اس کی کتنی عزت کرتے ہیں۔اپنے ملک میں وہ معمولی حیثیت کے ہوتے ہیں اور ہندوستان آتے بھی مانگتے ہوئے ہیں مگر جب ہندوستان پہنچتے ہیں تو ہندوستانی انہیں آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ عرب صاحب تشریف لائے ہیں ، عرب صاحب یہ فرماتے ہیں، عرب صاحب وہ فرماتے ہیں اور اس طرح وہ جاہل عرب جو کچھ کہہ دے ہندوستانی اسے توجہ سے سنتے ہیں اور اُس کی قدر کرتے ہیں۔یہی حال ہندوستانیوں کا بھی ہوتا ہے جب وہ کسی باہر کے ملک میں جاتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض علاقوں میں ہندوستانی بدنام ہیں مگر یہ اپنے اختیار میں ہوتا ہے کہ انسان نئی عزت اپنے لئے قائم کی کرلے۔یورپ کے مختلف علاقوں میں معمولی حیثیت کے ہندوستانی گئے اور وہ وہاں ہندوستان کے لیڈر سمجھے جانے لگے۔یہی حال امریکہ کا ہے معمولی پنڈت وہاں چلا جاتا ہے تو وہ ویدانت کا ماہر اور عالم مشہور ہو جاتا ہے۔امریکن لوگ اُس سے لیکچر دلاتے ، اُس کی خاطر تواضع کرتے اور