خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 179

خطبات محمود 129 سال ۱۹۳۶ء اس زمین کے متعلق مقدمہ چلا دیتی ہے جس کے متعلق پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے جس کا نام میں نہیں لیتا چوہدری ظفر اللہ خانصاحب سے ایک ملاقات کے موقع پر کہا کہ میں نے اس زمین کے کی کاغذات منگوا کر دیکھے ہیں اور ایک لمبے عرصہ تک ان کا مطالعہ کیا ہے اگر مجھ پر ثابت ہو جاتا کہ یہ زمین احمدیوں کی نہیں تو میں ضرور دیوار میں گروا دیتا۔اسی طرح ایک افسر نے مجھ سے کہا کہ پہلے تھی ہمیں غلط رپورٹ پہنچی تھی بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ دو زمینیں جن کے متعلق جھگڑا ہے وہ آپ کی ہیں۔ان دو باتوں کے بعد جب یکدم سرکاری طور پر مقدمہ چلایا جائے تو ہمیں حیرت و استعجاب کا لاحق ہونا ایک لازمی امر ہے اور ہمیں تعجب ہے کہ اس قدر علم حاصل کر لینے کے بعد کون سی ایسی نئی بات پیدا ہوئی کہ یہ کارروائیاں ہونے لگیں۔مجھے نہیں معلوم یہ مقدمہ چلانے کا حکم پنجاب کے کسی افسر نے دیا یا ضلع کے کسی افسر نے کہا۔یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ظاہر کرے۔اگر وہ ظاہر کرے توی پتہ لگ سکتا ہے نہیں تو ہمیں کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ کس کے کہنے پر یہ مقدمہ چلایا گیا۔ہم تو یہی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک غیر معمولی تغیر حکومت میں پیدا ہوا اور جب ہم اس کے ساتھ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ چار پانچ مہینہ خاموش رہنے کے بعد ادھر مقدمہ شروع ہوا اُدھر اس نیت سے دو احراری آ گئے کہ وہ کی ریتی چھلہ کے احاطہ کے دروازوں میں سے گزریں گے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دیوار میں تو چار پانچ چی ماہ سے بنی ہوئی تھیں ان چار پانچ مہینوں میں قادیان والوں کو تو وہاں سے گزرنے کی ضرورت ہے محسوس نہ ہوئی لیکن پانچ مہینہ کے بعد جب حکومت نے مقدمہ چلا دیا تو یکدم دو احراریوں کو وہاں کی سے خاص طور پر گزرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ کیا اس کا صاف طور پر یہ مطلب نہیں کہ بعض افسروں نے مقدمہ میں اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے اشارہ کر کے ان دو آدمیوں کو بھجوایا تھاتی کیونکہ اس دفعہ کے ماتحت جس کے ماتحت مقدمہ چلایا گیا ہے فساد کا خطرہ بھی ضروری ہے۔پس پانچ مہینے پہلے تو کسی قسم کا جھگڑا پیدا نہ ہوا لیکن جب گورنمنٹ نے مقدمہ کھڑا کر دیا تو کسی ایسے افسر نے جسے اس بات سے دلچسپی تھی کہ مقدمہ ضرور جیتا جائے اشارہ کر دیا کہ دو احراری چلے جائیں اور ای زبردستی دروازوں میں داخل ہوں اس کے بعد جب احراری یہاں پہنچتے ہیں تو ہماری حیرت کی کوئی کی حد نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ پولیس جب گرفتار کرتی ہے تو احرار کے ساتھ ان لوگوں کو بھی گرفتار کر لیتی ہے جو مالک زمین کی طرف سے حفاظت پر کھڑے ہوئے تھے حالانکہ ہائی کورٹ کے