خطبات محمود (جلد 17) — Page 110
خطبات محمود 11۔سال ۱۹۳۶ء نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَ نَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ اور رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرُنِی وَارْحَمُنِی۔اِس کے علاوہ اور بھی دعائیں اپنی زبان میں کرو جنہیں دلی جوش کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر سکو۔اس تعلیم پر عمل کر کے دیکھ لو تم محسوس کرو گے کہ تم اکیلے نہیں اور نہ دنیا کی نگاہوں میں یتیم ہو کیونکہ ہمارا خدا ہمارا روحانی باپ ہے اور جو بندے اس زندہ اور حی و قیوم خدا کے بیٹوں کی مانند پیارے ہوں وہ یتیم نہیں ہوتے اور نہ کبھی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ زندہ رہنے والا خدا ہے۔یتیم وہ تب ہوں جب خدا مرے لیکن جب خدا کبھی مر نہیں سکتا تو وہ بھی کبھی یتیم نہیں ہو سکتے۔پس تمہارے لئے ٹیم کا ہونا ناممکن ہے۔تم مایوس مت ہو بلکہ تم اپنے زندہ خدا کے آستانہ پر گر جاؤ اور اس سے تفرع اور عاجزی سے دعائیں مانگو تب تم دیکھو گے کہ وہ دیو جو غضبناک شکلیں بنا کر تمہیں ڈرا رہے ہیں اور تمہیں اس وقت خوفناک صورتوں میں نظر آرہے ہیں وہ دُھواں بن کر اُڑ جائیں گے اور ان کا نام ونشان تک دنیا میں نہیں رہے گا۔( الفضل ۱۷؍ مارچ ۱۹۳۶ء ) بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل صلى الله بخاری کتاب المغازی باب نزول النبي عليه الحجر سے بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى (الخ) الْمَاعُون : ۵ المؤمن: ٢٩ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ امَنَّا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة: 9) النمل: ٦٣ آل عمران ۹۳