خطبات محمود (جلد 16) — Page 81
خطبات محمود ΔΙ سال ۱۹۳۵ء خطوط آئے ہیں جو میرے ساتھ اس قسم کے اخلاص کے اظہار پر مشتمل ہیں اور ان میں ایسا رنگ محبت کا پایا جاتا ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ ان کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں۔ان میں جو خالی محبت اور اخلاص ہے اس کے متعلق میں کیا اظہار خیالات کر سکتا ہوں۔ہر شخص اپنے اخلاص کے مطابق اللہ تعالیٰ سے جزاء پاتا ہے۔جسے لِلهِ فِی اللہ میرے ساتھ محبت کا تعلق ہوگا یقیناً وہ اپنے اخلاص کے مطابق اس کی جزاء پائیگا اس لئے اس کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن بعض دوستوں نے ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ یہ امر ایک مذہبی مسئلہ بن جاتا ہے اور اس لئے میں اس کے متعلق کچھ کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔وہ خیال یہ ہے کہ بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیاں آپ کے متعلق ہیں اور جب ہم ان پیشگوئیوں کو درست مانتے ہیں تو یہ کس طرح سمجھ لیں کہ آپ کی وفات اسی زمانہ میں ہونے والی ہے اور گوان خوابوں کی بناء پر کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کی وفات کب ہو گی لیکن اس زمانہ میں اس کا امکان بھی ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں۔اور میں آج اس امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں کہ خوابوں کا کیا مقصد ہوتا ہے اور پیشگوئیاں کس طرح مشروط ہوتی ہیں۔پہلی بات اس کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ کسی کی موت کے متعلق خواب کی یقینی تعبیر یہی نہیں ہوتی کہ وہ فوت ہو جائے گا کیونکہ رویا میں موت دیکھنے کے کئی معنی ہوتے ہیں موت کے معنی زندگی کی طوالت بھی ہوتی ہے جب کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ کوئی شخص فوت ہو گیا ہے تو کبھی اس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اس کی عمر دراز ہوگی اگر کوئی دیکھے کہ کوئی قتل ہو گیا ہے تو اس کے معنی بسا اوقات یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص کو یقین اور وثوق کا درجہ حاصل ہوگا۔قتل بعض دفعہ یقین کامل اور ایمانِ کامل پر دلالت کرتا ہے اور کبھی موت کے معنی تعلق باللہ کے ہوتے ہیں۔صوفیاء کا مشہور قول ہے کہ مُوْتُوْا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوَال۔یعنی مرنے سے پہلے مر جاؤ جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نفسوں کو کچل دو، نیکی تقومی پیدا کر لو، تو موت سے پہلے انسان پر جو موت آتی ہے یعنی جذبات کا مارنا وہ بھی موت ہی کہلاتی ہے۔اس لحاظ سے موت کی تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے نفس کی ایسی اصلاح کا موقع دے جو مُؤتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا کے مطابق موت کہلا سکے۔پھر قتل کے معنی قطع تعلق کے بھی ہوتے ہیں رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جب صحابہ میں خلافت کے متعلق اختلاف پیدا ہوا ،