خطبات محمود (جلد 16) — Page 797
خطبات محمود ۷۹۷ سال ۱۹۳۵ء عورت نے آواز دی کہ پیرے! کھانا لے جاؤ وہ نماز پڑھ رہا تھا اور یہ اُس کی پانچویں نماز تھی لیکن بلانے والی عورت کو تو اس کا علم نہ تھا اس لئے برابر آواز میں دیتی گئی۔اس پر پیرے نے نماز میں ہی اُسے آواز دی کہ ٹھہر جاسلام پھیر کر آتا ہوں۔پیرا جب بیماری سے اچھا ہوا تو وہ حضرت صاحب کے پاس ہی ٹھہر گیا۔آپ کبھی کبھی اسے بٹالہ تار دینے یا ریلوے پارسل وغیرہ لینے کے لئے بھجوا دیا کرتے تھے۔کیونکہ اُس وقت نہ تار قادیان آئی تھی اور نہ ریلوے تھی۔ایک دفعہ کسی ایسے ہی کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بٹالہ بھیجا۔اس لئے وہاں اسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مل گئے۔اُن کی عادت تھی کہ وہ اکثر ریل کے وقت بٹالہ سٹیشن پر چلے جاتے اور جب انہیں کوئی قادیان آنے والا آدمی ملتا تو اُسے قادیان آنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے اس دن اتفاقاً اُنہیں کوئی اور آدمی نہ ملا تو انہوں نے پیرے کو پکڑ لیا اور کہا کہ پیرے! تو کیوں قادیان میں بیٹھا ہے وہاں تو یہ خرابی ہے ، وہ خرابی ہے۔پیرے نے جواب دیا کہ مولوی صاحب! میں پڑھا لکھا تو نہیں اس لئے آپ کی باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ہاں ایک بات ہے اور غور کر وکتی لطیف بات ہے جو اُس نے بیان کی حالانکہ وہ بالکل ان پڑھ تھا اُس نے کہا کہ مرزا صاحب تو قادیان میں بیٹھے ہیں اور لوگ دور دور سے یکوں میں دھکے کھاتے ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں مگر آپ بٹالہ میں رہتے ہیں جہاں لوگ آسانی سے پہنچ سکتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی آپ کے پاس نہیں آتا اور آپ لوگوں کو سمجھانے کے لے روزانہ چل کر اسٹیشن پر آتے ہیں حتی کہ آپ کی جوتی بھی گھس گئی ہے لیکن لوگ پھر بھی آپ کی بات نہیں مانتے۔آخر کوئی بات تو ہے کہ لوگ مرزا صاحب کے پاس اس طرح کھنچے چلے جاتے ہیں اور ان کے مخالفوں کی بات نہیں مانتے۔اب دیکھو کہ وہ بالکل جاہل آدمی ہے مگر اُس نے کیسی لطیف بات بیان کی۔مولوی محمد حسین صاحب گو یا قسم کھا چکے تھے کہ سلسلہ کی مخالفت کرتے چلے جائیں گے اس لئے انہوں نے اس نکتہ سے فائدہ نہ اٹھایا۔اگر کوئی اور سنجیدہ آدمی ہوتا تو یہی دلیل اُس کے لئے کافی تھی اور اسی پر وہ ہدایت پا جاتا۔پیرے جیسے شخص کا ایسی معقول بات کہنا بتا تا ہے کہ احمدیت کی تعلیم کا جاننا تو الگ رہا اس کے ساتھ چھو کر بھی انسان کی عقل تیز ہو جاتی ہے۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے۔لدھیانہ کے علاقہ کے ایک شخص میاں نور محمد صاحب