خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 745 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 745

خطبات محمود ۷۴۵ سال ۱۹۳۵ء اثر ہے کہ خواجہ صاحب کی بھی خواہش ہے کہ کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے فساد دُور ہو جائے۔میں نے انہیں کہا کہ فساد تو میں بھی نہیں چاہتا۔آپ خواجہ صاحب سے پوچھ لیں کہ اگر تو ان سے جھگڑا کسی ڈ نیوی چیز کے لئے ہے کوئی چیز میرے پاس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے یا انہیں مل جانی چاہئے تو میں بغیر کسی عذر کے اُن کو دے دیتا ہوں اور اُن کو اختیار ہے کہ مجھ سے پوچھے بغیر اسے لے جائیں۔لیکن اگر اختلاف عقائد کے متعلق ہے تو یہ نہ اُن کا حق ہے نہ میرا کہ بعض باتوں کو چھوڑ کر کوئی درمیانی راہ اختیار کر لیں اور اس طرح صلح نہیں ہوگی بلکہ فساد بڑھے گا اور ہم دونوں دین کے دشمن اور غدار ثابت ہوں گے۔پس حقیقت یہ ہے کہ احمدیت ایک مذہبی تحریک ہے یا دوسرے لفظوں میں اسلام کا دوسرا نام ہے کوئی نیا مذ ہب نہیں بلکہ نیا فرقہ بھی نہیں صرف نام کی شناخت کے لئے احمدیت کا لفظ بولا جاتا ہے ورنہ احمدیت در حقیقت نام ہے اُس اسلام کا جو رسول کریم ﷺ دنیا میں لائے۔بعض مسلمانوں کی غفلت اور دست برد سے اس میں کئی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا اور آپ کو قرآن کریم کی وہی تشریح سمجھائی۔جو رسول کریم ﷺ کو سمجھائی تھی۔پس یہ نام صرف امتیاز کے لئے ہے ورنہ احمدیت کوئی حقیقت نہیں جب تک اس کا ترجمہ اسلام نہ کریں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ کیا اس میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے؟ کیا قرآن کا کوئی شوشہ بھی بدلا جا سکتا ہے؟ اگر یہ ہو سکتا ہے تو ہم بھی خیال کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے کام کی تجاویز اور تفاصیل حالات کے مطابق ڈھال لیں گے لیکن جب یہ غلط ہے کہ اسلام میں کوئی رد و بدل ممکن ہو تو یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم اپنے پروگرام کو حالات کے مطابق ڈھال لیں۔جب اسلام پہلی دفعہ دنیا میں آیا تو اُس وقت بھی ساری دنیا نے اس سے لڑائی کی اور چاہا کہ یہ نہ پھیل سکے اور اسے غلبہ حاصل نہ ہو لیکن خدا نے اسے پھیلا دیا اور لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کی۔اللہ تعالیٰ نے انکار کیا ہر بات سے سوائے اِس کے کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے۔اسی طرح اب بھی ہو گا چاہے دشمن شرارت میں حد سے بڑھ جائیں اور دوست ہمت ہار بیٹھیں۔خدا تعالیٰ نے جو بات کہی ہے وہ ہو کر رہے گی اور اگر ہم اس سے ذرا بھی اِدھر اُدھر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت جاتی رہے گی۔آگے بھی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کیا ہے ہمارے لئے نہیں کیا۔آپ میں سے ہر ایک کو یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہماری حیثیت اتنی ہے کہ اللہ