خطبات محمود (جلد 16) — Page 70
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سے کام نہیں کرتے لیکن جب میں واپس آیا اور بعد میں آئی ہوئی ڈاک پڑھی تو میں نے سمجھا کہ میرا خیال غلط تھا۔باہر کی جماعتوں میں بھی شدید جوش تھا جس کے پھوٹ پڑنے کا ڈر تھا۔تب یہ دیکھتے ہوئے کہ ہماری انجمنیں مذہبی ہیں اور ان میں سرکاری ملازم بھی شامل ہیں ایسا نہ ہو اس جوش کی حالت میں وہ بے سمجھے کوئی اقدام کر بیٹھیں۔میں نے فوراً سیاسی انجمنوں کے متعلق اعلان کر دیا حالانکہ پہلے دو چار دن انتظار کا ارادہ تھا۔سرکاری ملازموں کے سوا دوسرے لوگوں کے لئے بھی میں نے یہ شرط کر دی کہ جو ایسا کرنا چاہے کرے مجبوری یا حکم نہیں ہے اور یہ بھی شرط کر دی کہ سب لوگ قانون کی پابندی کریں اور شریعت کی بھی پابندی کریں۔پس میں نے ان تجاویز کے ذریعہ ان لوگوں کے لئے جو بے اصولے با اصول بنتے تھے رستہ کھول دیا تھا کہ اگر وہ موجودہ انجمنوں میں شامل نہ ہوں تو کوئی انہیں منافق قرار نہ دے سکے کیونکہ اس میں شامل ہونا اختیاری رکھا گیا تھا مگر وہ ایسے با اصول نکلے کہ اس موقع پر بھی اعتراض کرنے سے نہ رہے حالانکہ اس میں ان کا اپنا بھلا مد نظر رکھا گیا تھا اور جہاں مذہبی انجمنوں میں شریک ہونا ضروری تھا وہاں ان انجمنوں میں شریک ہونا ان کے لئے ضروری نہ تھا مگر وہ اعتراض کرنے سے پھر بھی باز نہ رہے۔چنانچہ قادیان میں سے تین آدمی ایسے ہیں جنہوں نے اس پر اعتراض کیا۔قادیان جس طرح مخلصین کے لئے نیک نام ہے اسی طرح بعض مفسدین کے لئے بد نام بھی ہے۔دو نے تو مجھے رقعے لکھے اور ایک نے کسی کے آگے بات بیان کی جو میرے پاس پہنچائی گئی ہے۔ایک نے تو یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ نے سیاسی انجمنوں کی اجازت دے کر بڑا غضب کر دیا۔سیاست نہایت بُری اور خطرناک چیز ہے اور معلوم نہیں اب کیا ہو۔یہاں تو خیر امن ہے باہر جو ہماری جماعتیں پھیلی ہوئی ہیں اور تعداد میں بالکل قلیل ہیں وہ تو اس سے بالکل ہی تباہ ہو جائیں گی۔اسی طرح سیاسیات پر مسجد میں خطبے کیوں پڑھے گئے اگر گورنمنٹ ہماری مسجدوں پر قبضہ کرے دروازوں پر تالے لگا دے اور ہمیں بے دخل کر دے تو کیا ہو۔دوسرے صاحب نے تو کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں سمجھی اور انہوں نے صرف اتنا لکھنا ہی کافی سمجھ لیا کہ جس وقت میں نے خطبہ سنا اسی وقت میں نے دل میں کہا کہ اُف بھاری غلطی ہوگئی اور اس وقت تو میں نے صبر کیا مگر اب میں آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ فوراً اس تجویز کو واپس لے لیں۔یہ نہایت ہی تباہ کن ہے یہ وہی با اصول صاحب