خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 71

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ نماز کے وقت پہرہ کیوں دیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی بات کے ثبوت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب“۔یہ سمجھ لیا کہ جب میں کہہ رہا ہوں تو اس سے بڑھ کر کسی ثبوت کی اب کیا ضرورت ہوگی۔تیسرے صاحب کے متعلق میرے پاس بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا جب میں نے خطبہ سنا تو اس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ اُف غضب ہو گیا ، اب کیا ہو گا۔اوّل تو میں کہتا ہوں کہ اس میں غضب ہونے کی بات ہی کونسی ہے اور کونسی اب نئی چیز جماعت کے سامنے رکھی گئی ہے جو اس سے پہلے نہیں تھی۔میں نے سیاسی انجمنوں کے قیام کی اجازت دیتے ہوئے جو شرائط عائد کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ قانون کے اندر رہ کر گورنمنٹ کے سامنے اپنے مطالبات رکھے جائیں۔بھلا کیا یہ نئی چیز ہے؟ کیا ہم ہمیشہ گورنمنٹ کے سامنے اپنے حقوق کے لئے پروٹسٹ نہیں کرتے رہے آیا فتنہ مستریاں کے وقت ہم نے گورنمنٹ کے سامنے احتجاج کیا یا نہیں۔پھر کیا اور موقعوں پر گورنمنٹ کے سامنے ہم نے اپنے حقوق کو پیش نہیں کیا۔اگر کیا ہے تو اس میں نئی بات کونسی ہو گئی جس پر انہیں کہنا پڑا کہ اُف غضب ہو گیا۔میں نے تو انہی لوگوں کے بچاؤ کے لئے یہ سب کچھ کیا تھا ہاں اتنی بات زائد کر دی تھی کہ پہلے ہماری جماعت کے تمام لوگ یہ کام کیا کرتے تھے مگر اب تھوڑے کیا کریں گے۔اگر وہ ذرا بھی عقلمندی سے میرا خطبہ سنتے یا یہی سمجھ لیتے کہ خلیفہ میں تھوڑی بہت عقل ہے اور اس نے جو کچھ کہا ہو گا سوچ سمجھ کر کہا ہوگا تو اتنی معمولی بات کا ان کی سمجھ میں آنا کوئی مشکل امر نہ تھا لیکن نہ تو انہوں نے اپنی عقل سے کام لیا اور نہ میرے متعلق یہ سمجھا کہ اس میں کچھ عقل ہے اور اعتراض کر دیا حالانکہ اگر وہ سوچتے تو انہیں نظر آتا کہ جو پہلے ہوا کرتا تھا وہی اب بھی ہوا کرے گا۔ہاں اس کام کو الگ کر دیا گیا ہے اور ساری جماعت کا اس کام میں حصہ لینا ترک کرا دیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے جماعت کی طرف سے بعض اس قسم کی چٹھیاں موصول ہوئیں کہ ہم خطاب چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ، نوکریوں سے استعفے دینے کے لئے آمادہ ہیں ، بھوکا پیاسا رہنا بلکہ مرنا ہم برداشت کر لیں گے مگر ہم سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف گھلے بندوں ہتک کریں۔جب مجھے اس قسم کی چٹھیاں موصول ہوئیں تو میں نے محسوس کیا کہ اگر میں نے اب اس میں دخل نہ دیا اور جماعت کے ایک حصہ کو سیاسی کام کے لئے الگ نہ کر دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بعض حکومت کے ملازم بھی اس