خطبات محمود (جلد 16) — Page 740
خطبات محمود ۷۴۰ سال ۱۹۳۵ء دیا ہے۔مگر اُس بڑھیا کی روئی کا گالا تو نا کام واپس آیا کیونکہ یوسف ایک ہی کے ہاتھ بک سکتا تھا اور اس کے لئے سب سے اچھا گھر چنا گیا مگر ہمارا خدا غیر محدود ہے۔وہ اپنے ہر طالب کے گھر میں جا سکتا ہے پھر وہ رحمان اور رحیم ہے وہ بڑھیا روئی کا ایک کالا لیکر گئی تھی اور ناکام واپس آئی۔مگر تم اخلاص کے ساتھ اگر روٹی کا ایک پھاہا بھی لیکر جاؤ گے تو خدا تعالیٰ تمہاری اس قربانی کو قبول کرے گا۔اور وہ کہے گا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔اب میں تمہارا ہو چکا۔خدا تعالیٰ کی قیمت کون لگا سکتا ہے؟ دنیا کی کوئی چیز اُس کی قیمت نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ مالک ہے ہر چیز کا اور خالق ہے تمام مخلوق کا لیکن ساتھ ہی اُس کا رحم اتنا وسیع اور اُس کا فضل اتنا عالمگیر ہے کہ جب تم معمولی سی قربانی کر کے بھی اُس کے حضور جاؤ تو وہ تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہو جاتا ہے۔پس کیوں تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گئے ؟ کیوں تمہارے دلوں میں افسردگی کی تاریکی آگئی ؟ تمہاری کسی چیز کی خدا کو ضرورت نہیں۔صرف تمہارے دل کی خدا کو ضرورت ہے۔ایک محبت رکھنے والے دل کی۔ایک عشق رکھنے والے دل کی۔ایک دردر کھنے والے دل کی تب خدا تمہارا ہو جائے گا اور تب تم وہی کہو گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا کہ ھے آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا پس آج تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے بڑی سے بڑی نعمت مہیا کر دی ہے اور وہ اس کا اپنا وجود ہے جو اس نے تمہارے سامنے رکھ دیا۔وہ کہہ رہا ہے کہ آؤ اور مجھے لے لو۔اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں صرف اخلاص اور محبت رکھنے والے دل کی ضرورت ہے ، وہ پیدا کر و۔آج کیا یا کیوں یا کیسی یا کس طرح کا کوئی سوال نہیں۔اب کوئی شخص یہ نہیں پوچھ سکتا کہ کیسی قربانی کی ضرورت ہے، کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ کیوں قربانی کریں، کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ اب ہم کیا کریں اور کس طرح کریں۔آج تم سے یہ مطالبہ ہے کہ تم کہو کہ تمہارا سب کچھ حاضر ہے، اُسے قبول کر لیا جائے۔جب تم سچے دل سے یہ بات کہنے پر تیار ہو جاؤ گے تو خدا تعالیٰ کے فضل تم پر نازل ہوں گے، بے انتہاء فضل نازل ہوں گے۔اتنے بڑے بڑے فضل نازل ہونگے کہ آئندہ زمانہ میں آنے والے لوگ تم پر رشک کریں گے۔نہ صرف عام لوگ تم پر رشک کریں گے بلکہ بڑے بڑے سردار رشک کریں گے۔اور نہ صرف بڑے بڑے سردار رشک کریں گے بلکہ بڑے بڑے بادشاہ تم پر رشک کریں گے اور کہیں گے کاش !