خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 739 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 739

خطبات محمود ۷۳۹ سال ۱۹۳۵ء پیدا نہیں کرتے کہ دنیا تمہارے سامنے اپنا سر جھکا کر چلے اور وہ مجبور ہو کر تمہاری طرف مائل ہواُس وقت تک تم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور مت سمجھو کہ قطب بنا کوئی مشکل بات ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس وقت تم کامل نیکی کا ارادہ کر لو اور جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو تو تم قطب بن چکے ہو۔ہو سکتا ہے تم رات کوسوتے وقت کامل ایثار و قربانی والا عشق اپنے اندر پیدا کر لو اور جب صبح ہو تو تمہیں قطب کا مقام حاصل ہو چکا ہو۔اللہ تعالیٰ کی دین سے مایوس مت ہو کہ جب وہ دینے پر آتا ہے تو ایک ساعت میں کچھ کا کچھ کر دیتا ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ غار حرا میں مکہ کا ایک غریب عرب بیٹھا اپنے ملک کی حالت زار پر آنسو بہا رہا تھا اور اس کی ترقی کے وسائل پر غور کر رہا تھا تو ایک ہی سکینڈ میں اسے اللہ تعالیٰ نے کیا سے کیا بنا دیا۔جب وہ حرا میں داخل ہو ا تو وہ صرف مکہ کا ایک غریب باشندہ تھا لیکن خدا تعالیٰ کے مقدس ہاتھ کے چھونے کے بعد جب وہ غارِ حرا سے باہر نکلا تو بادشاہوں کا بادشاہ اور نبیوں کا سردار تھا۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ قادیان کی گمنام بستی کا ایک گمنام مغل جس کی اپنی حالت یہ تھی کہ قادیان کے رہنے والے باشندے بھی اُس کی شکل تک سے ناواقف تھے وہ ایک دن اپنے حجرہ میں بیٹھا دنیا کی بے دینی پر غور کر رہا اور مسلمانوں کی گری ہوئی حالت کو دیکھ دیکھ کر رنج والم سے کباب ہو رہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا۔جب وہ حجرہ میں گیا تو اُس وقت ایک تباہ شدہ مغل خاندان کا ایک غریب اور گمنام فرد تھا مگر خدا تعالیٰ کے بابرکت ہاتھ کے چھونے کے بعد جب اُس نے حجرہ سے باہر قدم نکالاتو وہ اقلیم روحانیت کا بادشاہ تھا۔خود خدا تعالیٰ نے عرش سے اسے مخاطب ہوکر کہا کہ دیکھ! میں نے تجھے برکت دی اب بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اور میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔" تم نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کو دیکھا۔تم نے اپنی آنکھوں سے پل بھر میں کچھ کا کچھ بنتے دیکھا۔پھر تم کیوں خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے مایوس ہو گئے اور کیوں تم قربانی کرنے سے ڈر گئے ؟ تمہاری قربانیوں کی تو اتنی بھی حقیقت نہیں جتنی اُس بڑھیا کی تھی جو یوسف علیہ السلام کی خریداری کے لئے روٹی کا کالا لیکر گئی تھی۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ بڑھیا جب روئی کا کالا لیکر حضرت یوسف کی خریداری کے لئے گئی تو لوگ اُس کی نادانی پر ہنسے۔لیکن عشق نے ادب سے اُس کا دامن تھام لیا۔عشق بھی اُس کے فعل پر ہنسا مگر اس لئے نہیں کہ اُس نے نادانی کا فعل کیا بلکہ اِس لئے کہ اُس نے کہا میں نے آج چھوٹے اور بڑے کا امتیاز مٹا کر رکھ