خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 69

خطبات محمود ۶۹ سال ۱۹۳۵ء ثابت ہے کہ ایک موقع پر صحابہ نے اپنی حفاظت کا انتظام نہ کیا تو انہیں سخت تکلیف اُٹھانی پڑی۔چنانچہ حضرت عمر و بن العاص جب مصر کی فتح کے لئے گئے اور انہوں نے علاقہ کو فتح کر لیا تو اس کے بعد جب وہ نماز پڑھاتے تو پہرہ کا انتظام نہ کرتے۔دشمنوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس حالت میں بالکل غافل ہوتے ہیں تو انہوں نے ایک دن مقرر کر کے چند سو مسلح آدمی عین اُس وقت بھیجے جب مسلمان سجدہ میں تھے۔پہنچتے ہی انہوں نے تلواروں سے مسلمانوں کے سر کاٹنے شروع کر دیئے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سینکڑوں صحابہ اُس دن مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ایک کے بعد دوسرا سر زمین پر گرتا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور ساتھی سمجھ ہی نہ سکتے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔حتی کہ شدید نقصان لشکر کو پہنچ گیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے انہیں بہت ڈانٹا اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ حفاظت کا انتظام رکھنا چاہئے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ مدینہ میں بھی ایسا ہی ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔اس واقعہ کے بعد صحابہ نے یہ انتظام کیا کہ جب بھی وہ نماز پڑھتے ہمیشہ حفاظت کے لئے پہرے رکھتے۔پس اگر ان معترضین کو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی سمجھ نہیں دی تھی تو ان کا فرض تھا کہ یہ ان لوگوں سے پوچھتے جو مسائل سے واقفیت رکھتے ہیں۔خود بخود بغیر سوچے سمجھے ایک بات کہہ دینا سوائے اپنے بے اصولا پن کا اظہار کرنے کے اور کس کا ثبوت ہے۔آخر ایک نابینا کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ کسی بینا کا ہاتھ پکڑے تا کہ وہ گڑھے میں نہ گر جائے۔جب وہ بھی دینی علوم سے نا واقف تھے تو ان کا کام تھا وہ کہتے میں بھی روحانی عالم میں محتاج ہدایت ہوں مجھے راہ دکھایا جائے مگر بجائے اس کے کہ وہ کہتے مجھے کوئی دوسرا راہ دکھائے خود بخود چوہدری بننے لگے اور لوگوں سے یہ کہنے لگ گئے کہ آؤ ہمارے پیچھے چلو۔دوسری بات میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے جمعہ میں میں نے اعلان کیا تھا کہ جو جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اب احرار کی شرارت حد سے بڑھ گئی ہے اور انہیں اس پر احتجاج کی اجازت ملنی چاہئے انہیں میں اجازت دے سکتا ہوں کہ وہ الگ سیاسی انجمنیں بنالیں اور حکومت تک اپنے خیالات پہنچا کر دیکھ لیں اور گورنمنٹ کے سامنے اپنے دل کے زخم کھول کر رکھدیں کہ کیا اثر ہوتا ہے اس امر کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ میں دیکھتا تھا جماعت میں اشتعال ہے اور سُرعت سے بڑھ رہا ہے۔چنانچہ میں جب ۱۶ / جنوری کو لاہور گیا تو وہاں میں نے بعض لوگوں کا شکوہ کیا تھا کہ وہ پورے جوش