خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 712 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 712

خطبات محمود ۷۱۲ سال ۱۹۳۵ء کا حکم ہے یا مجھے اجازت ہے کہ جو چاہوں کہدوں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں حکم نہیں بلکہ اگر تم چاہو تو لے سکتے ہو۔اس پر اُس نے کہا کہ پھر حضرت ابو بکر کے لئے میں تبرک تو نہیں چھوڑ سکتا لایئے دودھ میرے حوالے کیجئے۔تو بعض ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ میز بان کا ادب اور اس کا احترام چاہتا ہے کہ اُس کی پیش کردہ چیز کو رڈ نہ کیا جائے اس موقع پر ایک سے زیادہ کھانوں کی اجازت ہے مگر عام طور پر ایک ہی کھانا استعمال کرنا چاہئے ہاں بیمار کے لئے کوئی حد بندی نہیں۔ناشتہ میں چائے ، سالن نہیں سمجھی جائے گی۔چائے کے علاوہ روٹی کے ساتھ کوئی اور چیز بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔تیسری چیز لباس ہے میں نے کہا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو کم کپڑے بنوائے جائیں اور وہ بھی سادہ ہوں۔عورتیں گوٹہ کناری استعمال نہ کریں۔پھیری والوں سے کپڑا نہ خریدیں۔اس طرح بلا ضرورت کپڑے خریدنے کی عادت پڑتی ہے اور صرف صحیح ضرورت پر کپڑا خرید ہیں۔اس ہدایت کو بھی پھر دُہراتا ہوں۔پھر میں نے کہا تھا کہ زیور نہ بنوائے جائیں۔نہ پرانے تڑوا کر اور نہ نئے ہاں ٹوٹے ہوئے کی مرمت کرائی جاسکتی ہے۔شادی بیاہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ زیور کی اجازت ہے مگر جہاں تک ممکن ہو کم زیور بنوائے جائیں۔اطباء اور ڈاکٹروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ محض تجربے کرنے کے لئے نئی نئی قیمتی دوائیں نہ تجویز کیا کریں۔ہاں اگر کسی ایسی دوا کے سوا چارہ نہ ہو تو بے شک تجویز کر دیں کیونکہ انسانی جان بہر حال قیمتی ہے عام طور پر آسان اور سستے نسخے تجویز کیا کریں۔آرائش کے سامانوں کے متعلق کوئی قانون تو نہیں بنایا تھا مگر یہ کہا تھا کہ عام طور پر اس سے بچنا چاہئے ہاں پرانی چیزوں سے عورتیں آرائش کی جو چیزیں بنا لیتی ہیں ان کی ممانعت نہیں۔تعلیمی اخراجات کے متعلق میں نے کہا تھا کہ انہیں ہم کم نہیں کر سکتے مگر طالب علموں کو چاہئے کہ کھانے اور لباس کے اخراجات میں کمی کریں۔اُستادوں کی ٹیوشن ، فیسوں اور کتابوں کے اخراجات کم نہیں کئے جا سکتے کیونکہ یہ بھی قوم کا سرمایہ ہے جس سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے مگر کھانے اور لباس میں جس قد ر کی ممکن ہوا نہیں کرنی چاہئے۔شادی بیاہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ کوئی قواعد مرتب کر نے تو مشکل ہیں مگر اخراجات میں ضرور کمی کرنی چاہئے۔ولیمہ کی دعوت میں بھی سادگی چاہئے۔میں نے بتایا تھا کہ ڈوموں اور میراثیوں پر جو اخراجات ہوتے تھے ، ان کی جگہ اب ولیمہ نے لے لی ہے معمولی سے معمولی آدمی