خطبات محمود (جلد 16) — Page 652
خطبات محمود ۶۵۲ سال ۱۹۳۵ء ساری دنیا کو فتح کیا اور ساری دنیا پر حکومت کی ، جس کے بادشاہوں کے سامنے دوسرے بادشاہ عاجزانہ حیثیت میں پیش ہوتے تھے۔ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں انگلستان پر سپین نے حملہ کیا تو باوجود یکہ اُس زمانہ میں مسلمانوں کی طاقت مٹ چکی تھی بیان کیا جاتا ہے کہ ملکہ الزبتھ نے ترکوں کو لکھا کہ میں نے سنا ہے مسلمان عورت کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں میں ایک عورت ہوں اور اہل سپین نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے کیا ترک میری مدد نہ کریں گے ؟ جس زمانہ میں بغداد کی خلافت قریباً مٹ چکی تھی اور طوائف الملو کی پھیلی ہوئی تھی اُس زمانہ میں فلسطین کے علاقہ میں جہاں عیسائی صلیبی جنگیں کرنے والوں نے قبضہ کیا ہوا تھا ایک مسلمان عورت پر بعض عیسائیوں نے حملہ کیا اور دست درازی کرنے لگے۔جب اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے ننگا کرنے لگے تو اُس نے آواز دی کہ کوئی ہے جو بغداد کے خلیفہ کو یہ اطلاع دے کہ اس طرح ایک مسلم عورت کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔اُس وقت خلافت صرف بغداد تک محدود تھی سب ریاستیں آزاد ہو چکی تھیں کسی قافلہ والے نے جس نے عورت کی یہ آواز سنی تھی بغداد پہنچ کر برسبیل تذکرہ کسی سے اس کا ذکر کیا۔کسی نے جا کر خلیفہ سے بھی اس کا ذکر کر دیا۔اُس زمانہ میں عباسی خلیفہ بالکل شاہ شطرنج کی حیثیت رکھتا تھا مگر اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جب اُس نے یہ بات سنی تو اُسے اس قدر غیرت آئی کہ تلوار نکال کر تخت سے گود پڑا اور چلا یا کہ میں تمہاری امداد کو بھی آتا ہوں، ابھی آتا ہوں۔چونکہ عباسی خاندان عرصہ سے حکومت کر رہا تھا اس لئے اُن کا آزادریاستوں پر بھی اثر تھا کہ خلیفہ بغداد کے اس اعلان سے ایک آگ لگ گئی اور سب خلیفہ بغداد کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور اُس وقت تک آرام نہیں کیا جب تک اُس عورت کو چھڑا کر نہیں لائے۔مگر آج کیا ہے ایک معمولی عورت کا تو ذکر ہی نہیں ایک معزز ترین عورت کو بھی جانے دو، سب مسلمان عورتوں کی عزت کے سوال کو بھی جانے دو، ان سب سے زیادہ معزز اور مکرم اور مسلمانوں کی محبت کا مرکز جس کی عزت پر سب عزتیں قربان ہیں یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کی عزت کو لے لو اس سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔آج گھلے بندوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملے کئے جاتے ہیں مگر کوئی مسلمان نہیں جو ان حملوں کو دور کر سکے۔وہ خون کے آنسو روتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گالیاں سُن کر ان کے دل جل جاتے ہیں مگر ان کے ہاتھ اور ان کے جسم مفلوج ہیں کچھ نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان کی کمزریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے قوت عملیہ چھین لی ہے۔یہ