خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 613

خطبات محمود ۶۱۳ سال ۱۹۳۵ء کے نہایت مخلص صحابی تھے اور نہایت خوش مذاق آدمی تھے ان ہی کی وفات اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مدرسہ احمدیہ کے قیام کا خیال پیدا ہو ا۔وہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور ذکر کیا کہ میں نے خواب میں اپنی فوت شدہ ہمشیرہ کو دیکھا ہے کہ وہ مجھ سے ملی ہیں میں نے اُن سے پوچھا کہ بہن بتاؤ وہاں تمہارا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگی خدا نے بڑا فضل کیا ، مجھے اُس نے بخش دیا اور اب میں جنت میں آرام سے رہتی ہوں۔میں نے پوچھا کہ بہن وہاں کرتی کیا ہو؟ وہ کہنے لگی بیر بیچتی ہوں۔مولوی برہان الدین صاحب کہنے لگے۔میں نے کہا ” بھین ساڈی قسمت بھی عجیب ہے سانوں جنت وچ بھی بیر ہی ویچنے پے ان کے خاندان میں چونکہ غربت تھی اس لئے خواب میں بھی ان کا خیال ادھر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ رو یا سنکر فرمایا مولوی صاحب ! اس کی تعبیر تو اور ہے مگر خواب میں بھی آپ کو تمسخر ہی سُوجھا اور مذاق کرنا نہ بھولا۔بیر در حقیقت جنتی پھل ہے اور اس سے مراد ایسی کامل محبت ہوتی ہے جو لازوال ہو کیونکہ سدرہ لا زوال الہی محبت کا مقام ہے پس اس کی تعبیر یہ تھی کہ میں اللہ تعالی کی لازوال محبت لوگوں میں تقسیم کرتی ہوں۔غرض مؤمن تو کسی جگہ رہے اُسے کام کرنا پڑے گا اور اگر کسی وقت کسی کے ذہن میں یہ آیا کہ اب آرام کا وقت ہے تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ اس نے اپنے ایمان کو کھو دیا کیونکہ جس بات کو اسلام نے ایمان اور آرام قرار دیا ہے وہ تو کام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ وَالى رَبِّكَ فَارُغَبُ۔جب تم فارغ ہو جاؤ تو اور زیادہ محنت کرو اور اپنے رب کی طرف دوڑ پڑو۔یہ نکتہ ہے جسے ہمیشہ یادرکھنا چاہیے تمہارے لئے ان معنوں میں کوئی آرام نہیں جسے دنیا کے لوگ آرام کہتے ہیں لیکن جن معنوں میں قرآن کریم آرام کا وعدہ کرتا ہے اسے تم آسانی سے حاصل کر سکتے ہو۔دنیا جن معنوں میں آرام کا مطلب لیتی ہے وہ یقیناً غلط ہیں اور ان معنوں سے جس شخص نے آرام کی تلاش کی وہ اس جہان میں بھی اندھا رہے گا اور آخرت میں بھی اندھا اُٹھے گا۔تم خدا تعالیٰ کی طرف دیکھو اس نے آرام پیدا کیا مگر کیا وہ خود بھی آرام کیا کرتا ہے؟ اُس کے متعلق تو آتا ہے کہ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ اُسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔کوئی بیوقوف تھا اُس نے جب یہ آیت پڑھی تو کہنے لگا اللہ میاں تو بڑے دُکھ میں ہوگا اُسے نہ