خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 590

خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۵ء بائیں ان لڑکوں کو دیکھا تو میرے دل میں خیال گزرا کہ میں آج کچھ نہیں کر سکوں گا۔بہادر لوگ پسند کرتے تھے کہ اُن کے دائیں بائیں بہادر لوگ ہی ہوں تا وہ جب آگے بڑھ کر حملہ کریں تو پشت کی طرف سے اُن پر کوئی حملہ نہ کر سکے۔حضرت عبد الرحمن کا بیان ہے کہ میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ اگر میں دشمن پر حملہ کر کے اس کی صفوں میں کھس جاؤں تو میری پشت کون بچائے گا کہ دائیں طرف سے میرے گہنی لگی میں نے مُڑ کر دیکھا تو اُس طرف کھڑا ہوا انصاری لڑکا کہنے لگا چچا ! وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم ﷺ کو اس قدر دکھ دیتا رہا ہے میرا دل چاہتا ہے کہ اسے ماروں۔مگر بیشتر اس کے کہ میں اُسے کوئی جواب دیتا ، بائیں طرف سے کہنی پڑی اور جب میں نے اُس طرف مڑ کر دیکھا تو دوسرے لڑکے نے یہی سوال کیا کہ چا! وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا تھا دل چاہتا ہے کہ اسے میں قتل کروں۔ان کا بیان ہے باوجود اس کے کہ میں بڑا تجربہ کارسپاہی تھا اور عرب کے لوگ میری بہادری کو مانتے تھے مگر ابو جہل کو مارنے کا خیال میرے دل میں بھی نہ آیا تھا۔اس لئے میں نے اُن کی اس بات کو بچپن کا دعویٰ سمجھا اور اشارہ سے بتا دیا کہ ابو جہل وہ ہے جس کے آگے دو بہادر سپاہی تلوار میں لئے کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں ابھی میرے منہ سے یہ فقرہ پورے طور پر نکلنے بھی نہ پایا تھا کہ وہ دونوں لڑکے اس طرح جھپٹے جس طرح باز اپنے شکار پر جھپٹتا ہے گود کر اُس پر حملہ آور ہوئے اور قبل اس کے کہ محافظ سنبھل کر مدافعت کر سکیں انہوں نے ابو جہل کو قتل کر ڈالا۔محافظوں نے حملہ تو کیا مگر ایک کا وار خالی گیا اور ایک نے ایک لڑکے کا ہاتھ کاٹ ڈالا مگر انہوں نے ابو جہل کو مار ڈالا۔اور اس طرح پیشتر اس کے کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو کفار کا کمانڈر مارا گیا۔یہ ہے یوم الفرقان جب اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دیا کہ اسلام اسلام ہے اور کفر گفر۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ایسا نشان پھر نظر آئے تو چاہئے کہ غنیمت میں سے خدا تعالیٰ کا حصہ رکھو۔گویا یہ بیج ہے جس کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔جس طرح وہ زمیندار جو بیچ نہیں رکھتا دوبارہ فصل نہیں کاٹ سکتا اسی طرح جو غنیمت میں سے پانچواں حصہ خدا تعالیٰ کا نہ رکھے وہ کوئی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔بعض قربانیوں میں اللہ تعالیٰ غریب امیر سب کا مساوی حصہ چاہتا ہے بعض لوگ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ فلاں شخص امیر اور آسودہ حال ہے اور فلاں غریب ہے اس میں شک نہیں کہ شمس غریب کے لئے بڑا بوجھ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے بعض قربانیوں میں مساوات رکھی ہے گو اس میں بھی شبہ نہیں کہ جس کے