خطبات محمود (جلد 16) — Page 589
خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۵ء ان میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ کیا آپ کی مراد ہم سے ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر اُس نے کہا ہم تو اس لئے خاموش تھے کہ یہ مہاجرین کے بولنے کا موقع ہے ورنہ اگر آپ ہم سے ہی مشورہ لینا چاہتے ہیں تو بے شک آپ سے یہی معاہدہ تھا کہ ہم آپ کی مدینہ میں حفاظت کے ذمہ دار ہیں یا مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں مدافعت کرنا ہمارا فرض ہے لیکن یہ اُس وقت کی بات ہے جب ہم نے آپ کو دیکھا نہ تھا اور پہچانا نہ تھا اب کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہم نے خدا تعالیٰ کا کلام آپ سے سنا اب تو اس قسم کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا یہ سامنے سمندر ہے آپ ہمیں حکم دیں تو ہم بلا چون و چرا اس میں گھوڑے ڈال دیں گے۔اور اگر جنگ ہوئی تو ہم آپ کے آگے لڑیں گے پیچھے لڑیں گے دائیں لڑیں گے بائیں لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ آئے بلکہ ہمیں تو افسوس ہے کہ ہمارے بعض بھائی مدینہ میں ہیں انہیں لڑائی کا علم نہ تھا ورنہ وہ بھی ثواب میں شریک ہوتے۔سے یہ وہ جنگ تھی جس میں مکہ والوں کو یقین تھا کہ مسلمانوں کو بالکل مٹادیں گے۔حتی کہ جب رشتوں کے خیال سے ان میں سے ہی بعض نے صلح کی کوشش کی تو ابو جہل نے ایک شخص کو جس کا بھائی پہلے کسی وقت مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ نگا ہو کر پیٹنے لگے۔یہ عربوں میں ایک رواج تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا خاندان تباہ ہو گیا۔یہ ایک ایسی بات تھی جسے عرب برداشت نہ کر سکتے تھے۔ابوجہل نے ایسا اس خیال سے کرایا کہ اسے یقین تھا کہ آج مسلمانوں کے بچنے کی کوئی صورت نہیں اس لئے وہ چاہتا تھا کہ جنگ ضرور ہو۔وہ جانتا تھا کہ مسلمان تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور بغیر تیاری کے آئے ہیں اس لئے ان کو مٹانا آسان ہو گا۔مگر ہو ا کیا ؟ یہ کہ وہی شخص جو سمجھتا تھا کہ آج مسلمانوں کو نابود کر دیا جائے گا سب سے پہلے مارے جانے والوں میں سے تھا۔ابھی صف بندی ہو رہی تھی اور باقاعدہ لڑائی شروع نہ ہوئی تھی صرف مبارز طلب کئے جا رہے تھے کہ سترہ سترہ سال کے دو بچے جنہوں نے سُن رکھا تھا کہ ابو جہل نے رسول کریم ﷺ پر بہت ظلم کئے ہیں۔رسول کریم ﷺ دو سال سے مدینہ میں پر تھے اور ایک سال پہلے اسلام مدینہ میں آیا تھا اور اس طرح وہ ۱۴ سال کی عمر سے ہی یہ سن رہے تھے کہ اہلِ مکہ خصوصاً ابو جہل رسول کریم ﷺ پر بہت ظلم کرتا ہے انہوں نے اسے مار دیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور بڑے بہادر تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے جب اپنے دائیں