خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 506

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء مگر سوال دو آدمیوں کا نہیں۔سوال یہ ہے کہ ایک قوم کے کس قدر آدمیوں نے جرم کیا اور دوسری قوم کے کتنے آدمیوں نے جرم کیا۔اگر ہمارے مخالفوں میں سے سو آدمی نے جرم کیا اور ایک پر مقدمہ ہوا اور ہمارے ایک آدمی نے مُجرم کیا اور اس پر مقدمہ کیا گیا تو سمجھا یہ جائے گا کہ حکومت نے دوسروں کے خلاف سو میں سے ایک مجرم پر کارروائی کی اور احمدیوں کے سو فی صدی آدمیوں کے خلاف کارروائی کی۔خود قادیان میں ہی عطا اللہ شاہ صاحب بخاری کی طرح اور لوگوں نے بھی اشتعال انگیز تقریریں کی ہیں اور نہایت ہی اشتعال انگیز تقریریں کی ہیں ان میں صریح قتل کی تحریص دلائی جاتی رہی ہے مگر گورنمنٹ نے کوئی مقدمہ نہ چلایا اور نہ کوئی اور کارروائی کی۔غرض ان ضبط ہونے والے اشتہارات یا پمفلٹوں کے مقابلہ میں درجنوں ایسے اشتہارات ، اخبارات اور رسائل موجود ہیں جن میں سلسلہ احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہایت نا پاک اور گندے حملے کئے گئے ہیں اور گورنمنٹ ان پر کوئی تو جہ نہیں کرتی۔پس حکومت کا رویہ دیکھ کر اگر ہمارے آدمیوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ نو دس یا گیارہ ضبطیاں بھی محض یہ دکھانے کے لئے تھیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا تو میں سمجھتا ہوں اس شبہ کو دور کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ پر بدظنی نہ کرو مگر اس شبہ کا حقیقی جواب ہمارے پاس کوئی موجود نہیں اگر گورنمنٹ کے پاس کوئی دلیل موجود ہو تو ہم اسے خوشی کے ساتھ سننے کے لئے تیار ہیں۔ہم نے آج تک کبھی کوئی غیر معقول رویہ اختیار نہیں کیا۔اگر گورنمنٹ ثابت کر دے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے تو ہم خوشی سے اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں؟ مگر مشکل تو یہ ہے کہ گورنمنٹ ہمارے دلائل کے مقابلہ میں ایسی خاموش ہے کہ گو یا منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی ہے جس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں ہوسکتا کہ یا تو گورنمنٹ کے پاس ہمارے شبہات کا جواب نہیں یا گورنمنٹ ہمیں قابلِ التفات نہیں بجھتی اور خیال کرتی ہے کہ یہ پُر امن لوگ ہیں انہوں نے قانون کو تو ڑ نانہیں ان کی طرف توجہ کر کے کیوں وقت ضائع کریں۔اس سلسلہ میں میں ایک موٹی مثال پیش کرتا ہوں جس کا جواب میں سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کے پاس کوئی نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے سلسلہ کے مخالفین کئی سال سے متواتر یہ پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور ان کی سینکڑوں تحریروں اور تقریروں میں یہ طریق استعمال کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ کر اشتعال دلاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت