خطبات محمود (جلد 16) — Page 42
خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۵ء میں خواب کو بعض دفعہ اس لئے پورا کر دیا جاتا ہے کہ تا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کا مضر پہلو اپنے حقیقی معنوں میں ظاہر نہ ہو۔چنانچہ معتبرین نے لکھا ہے کہ اگر منذر خواب کو ظاہری طور پر پورا کر دیا جائے تو وہ وقوع میں نہیں آتی اور خدا تعالیٰ اس کے ظاہر میں پورے ہو جانے کو ہی کافی سمجھ لیتا ہے۔اس کی مثال بھی ہمیں احادیث سے نظر آتی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے دیکھا کہ سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں کسری کے سونے کے کنگن ہیں۔اس رویا میں اگر ایک طرف اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ ایران فتح ہوگا تو دوسری طرف یہ بھی اشارہ تھا کہ ایران کی فتح کے بعد ایرانیوں کی طرف سے بعض مصائب و مشکلات کا آنا بھی مقدر ہے کیونکہ خواب میں اگر سونا دیکھا جائے تو اس کے معنی غم اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کے رویا کے اس مفہوم کو سمجھا اور سراقہ کو بلا کر کہا کہ پہن کڑے ، ورنہ میں تجھے کوڑے ماروں گا۔چنانچہ اسے سونے کے کڑے پہنائے گئے اور اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کی اس رؤیا کے غم اور فکر کے پہلو کو دور کرنا چاہا۔مگر ظاہری صورت میں خواب کو پورا کر دینے کے باوجود پھر بھی خواب کا کچھ صہ حقیقی معنوں میں پورا ہو گیا۔کیونکہ حضرت عمر کو شہید کرنے والا ایک ایرانی ہی تھا۔پھر ایران میں شیعیت نے جو ترقی کی ، وہ ہمیشہ مسلمانوں کے لئے غم اور مصیبت ہی بنی رہی ہے۔مگر یہ بات تب کھلی جب میں نے دریافت کیا کہ ایسی روایت کیوں درج کر دی گئی ہے۔غرض عقل اور فہم کی زیادتی اخلاص کے ساتھ نہایت ہی ضروری ہوتی ہے ورنہ بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس شکایت آئی کہ کچھ عورتیں اپنے مردے پر نوحہ کر رہی ہیں۔آپ نے فرمایا انہیں منع کرو۔مگر جب منع کرنے کے باوجود وہ نہ رکیں۔اور دوبارہ آپ کے پاس شکایت کی گئی۔تو آپ نے فرمایا کہ ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔سے یہ تو عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ہمارے ملک میں بھی کہہ دیتے ہیں کھیہہ کھاوے۔اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ مٹی کھاوے۔بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر نہیں مانتا تو نہ مانے۔غرض عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ جب کسی کے متعلق یہ کہنا ہو کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تو کہتے ہیں کہ اس کے منہ میں مٹی ڈالو۔مگر سننے والوں نے یوں فرمانبرداری کرنی شروع کی کہ مٹی کے بورے بھر لئے اور ان عورتوں کے مونہوں پر مٹی پھینکنی شروع کر دی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو معلوم ہوا تو آپ