خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 43

خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۳۵ء سخت ناراض ہوئیں اور فرمایا ایک تو ان کے گھر میں ماتم ہو گیا ہے اور دوسرا تم ان پر مٹی ڈالتے ہو۔رسول اللہ کا یہ منشاء تو نہ تھا جو تم سمجھے۔کے پس اخلاص کے ساتھ عقل و فہم نہایت ضروری ہوتا ہے۔صرف عربی کتابیں رٹوا دینے سے کیا بن جاتا ہے جب تک فہم و فراست نہ پیدا کی جائے ، وسعت حوصلہ نہ پیدا کی جائے اور اس بات کی ہمت نہ پیدا کی جائے کہ انہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔پس صدر انجمن پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پروفیسروں پر بھی اور میں امید کرتا ہوں کہ صد را انجمن کو رسوں کو بدل کر ، استادوں کو بدل کر ، نظام کو بدل کر ، طریق نگرانی کو بدل کر ایسا انتظام کرے گی کہ ہمارے طالب علم ایک زندہ دل اور اُمنگوں سے بھرا ہوا دل لے کر نکلیں گے۔اور ہر تغیر جو دنیا میں پیدا ہوگا انہیں قربانی پر آمادہ کر دے گا اور ہر تغیر ان کے دل میں ایسی گدگدی پیدا کر دے گا کہ وہ خدا کے دین کی آواز پر لبیک کہے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ایسے طالب علم جب پیدا ہو جائیں گے تو ہمیں کسی مبلغ کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ لوگ اپنی ذات میں مبلغ ہوں گے اور بغیر کسی تحریک کے آپ ہی دنیا کی ہدایت کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ورنہ پر تکلف مبلغ سے دنیا کیا فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔اب بہت سے لوگ شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے مبلغوں کی داڑھیاں چھوٹی ہوتی ہیں۔میں نے بھی یہ نقص دیکھا ہے اس میں قحبہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی داڑھی چھوٹی تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لمبی داڑھی رکھا کرتے تھے حضرت خلیفہ اول کی بھی لمبی داڑھی تھی اور میری داڑھی بھی لمبی ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کی بھی بڑی داڑھی تھی ، حضرت ابو بکر حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم کی بھی بڑی داڑھی تھی۔یہ مان لیا کہ حضرت علی کی چھوٹی داڑھی تھی مگر ممکن ہے اس کی وجہ ان کی کوئی بیماری ہو یا کوئی اور۔اور اگر یہ بات نہ بھی ہو تب بھی کیوں رسول کریم ﷺ کی نقل نہ کی جائے اور حضرت علی کی نقل کی جائے بہر حال داڑھیوں میں نقص ہے۔اسی طرح ہمارے مبلغ ظاہری تکلفات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اکثر یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ فلاں جگہ کی جماعت اتنی سست ہے کہ ہم وہاں گئے مگر اس نے ہم سے کام نہیں لیا۔حالانکہ یہ مبلغ کا اپنا فرض ہے کہ وہ کام کرے کیونکہ ہم تو مبلغ سمجھتے ہی اس کو ہیں جو آگ ہو۔کبھی آگ بھی کہا کرتی ہے کہ مجھے سلگا یا نہیں جاتا وہ تو خود بخود سلگتی ہے اور اگر ایک گھر کولگتی ہے تو ساتھ کے دس گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے