خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 457

خطبات محمود ۴۵۷ ۲۹ سال ۱۹۳۵ء جماعت احمدیہ پر مظالم اور موجودہ فتن کے وسیع اثرات (فرموده ۲ /اگست ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ایک بات یہ بیان کی تھی کہ وہ خلاف قانون کا رروائیاں جو متواتر قادیان میں ہو رہی ہیں اور جن کا ازالہ کرنے سے گورنمنٹ اس وقت تک قاصر رہی ہے اور بعض ایسی غیر آئینی کا رروائیاں جن کے مرتکب خود حکومت کے بعض ماتحت افسر ہوئے ہیں وہ صرف ہم پر ہی اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ احرار اور خود گورنمنٹ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ ان واقعات کو جوں جوں شہرت حاصل ہوتی ہے حکومت کے ایک حصہ کے خلاف بھی لوگوں کے دلوں میں تاثرات پیدا ہوتے ہیں اور احرار کی اخلاقی کمزوری کے متعلق بھی لوگوں کے دلوں میں تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔اسی سلسلہ میں میں ایک بات اور بھی کہنی چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ ان واقعات کا ایک اور اثر بھی گورنمنٹ پر پڑتا ہے جس کو حکومت پنجاب محسوس نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا دائرہ فکر بہت محدود ہے۔انسان میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ اُسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کے سامنے ہولیکن اس چیز کے دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا جو اس کے کام کے نتیجہ میں آئندہ رونما ہونے والی ہو۔جب انسان مادی قوتوں سے کام لیتا ہے تو اس کی نگاہ محدود ہو جاتی ہے لیکن جب وہ غیر مادی قومی کے ذریعہ اپنے چاروں طرف دیکھتا ہے تو اس کی نظر وسیع ہو جاتی ہے۔جیسے عقل اور غور وفکر کے ماتحت انسان بہت کچھ دیکھ سکتا ہے جبکہ جسمانی آنکھوں کے ذریعہ وہ اسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کے سامنے ہو اسی طرح وہ لوگ جو مادی سامانوں کے ماتحت سوچنے کے عادی ہوں ان کی نگاہ صرف ایک طرف پڑتی ہے لیکن