خطبات محمود (جلد 16) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۵ء شخص رہ گیا جسے اللہ تعالیٰ نے شرعی گناہوں سے پاک رکھا ہوا تھا اور وہ مسیح علیہ السلام تھا ( کیونکہ خدا تعالیٰ کے سب نبی شرعی کمزوریوں سے پاک ہوتے ہیں ) صرف وہی تھا جو اس عورت پر پتھر پھینک سکتا تھا مگر اس نے جا کر اس عورت کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹی جاؤ پھر گناہ نہ کرنا۔پس خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے معصوموں کے سوا کون ہے جو کہہ سکے ہم سے غلطی نہیں ہو سکتی۔پھر کسی فعل کے متعلق ہم یقینی طور پر یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ بد دیانتی سے تھا پس جب تک ہمیں کوئی آسمانی ثبوت اس کے لئے نہ مل جائے کہ یہ قوم بگڑ گئی ہے چاہے دوست کتنا ناراض ہوں اور دس دس صفحات کے خطوط کیوں نہ لکھیں ، اس بارہ میں میرا دل ایک مضبوط چٹان کی طرح ہے میں آنکھوں سے سب باتیں دیکھنے کا عادی ہوں اور قلب سے فیصلہ کرتا ہوں اس لئے مجھ پر اثر نہیں ہوسکتا۔پنجاب اور ہندوستان کی حکومت میں ایسے افسر گزرے ہیں اور جو ابھی تک زندہ ہیں کہ ان کے انصاف کو دیکھتے ہوئے انگریز قوم کو بُر انہیں کہا جا سکتا۔رسول کریم ﷺ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر ملکہ کو گئے تو اس مقام پر اہل مکہ کی طرف سے ایک معزز شخص صلح کے لئے آیا آپ اس کے سامنے بیٹھے اس سے گفتگو کر رہے تھے کہ اس نے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا کر کہا دیکھو بچے ! اس پر صحابہ کا خون کھولنے لگا ، ایک صحابی کھڑے تھے ان کے سر پر جو دتھا ، انہوں نے اسے تلوار کا کند اما را اور کہا اپنے نجس ہاتھ رسول پاک ﷺ کی ریش مبارک کومت لگا۔وہ شخص اہل مکہ کا بڑا حسن تھا اور کم ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جس پر یا جس کے والدین پر اس نے کوئی احسان نہ کیا ہو، اس نے اس صحابی کی طرف غور سے دیکھا اور کہا کیا فلاں موقع پر میں نے تم پر احسان نہ کیا تھا۔اس پر اس صحابی کی آنکھیں شرم سے نیچی ہو گئیں اور وہ کچھ نہ کہہ سکے۔اس کے بعد اس نے غرور کے اظہار کے لئے اور یہ جتانے کے لئے کہ میں سب کا محسن ہوں پھر آپ کی ریش مبارک کو چُھوا۔اس پر پھر ایک صحابی نے اسی طرح کیا اور وہی الفاظ کہے اس نے پھر اس کی طرف دیکھا اور غور کرنے کے بعد کہا کون ہے ابن ابی قحافہ ؟ پھر کہا ہاں تم پر میں کوئی احسان نہیں جتا سکتا یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور اس مجلس میں مہاجرین میں سے صرف آپ ہی تھے جو اس کے احسان کے نیچے نہ تھے اس لئے اس نے آنکھیں نیچی کر لیں۔ہے تو احسان کا یہ اثر ہوتا ہے۔لیکن مخالف حالات میں انصاف بھی احسان ہی ہوتا ہے۔اس وقت بعض حکام کو ہمارے ساتھ انصاف