خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 449

خطبات محمود ۴۴۹ سال ۱۹۳۵ء حالت بھی بالکل بچہ کی سی تھی اور جماعت کا غالب عنصر جانی دشمن تھا ، اُس وقت اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کی اور مجھے وہ کچھ دیا جو کوئی انسان نہیں دے سکتا۔پس خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں مجھے نہ بادشاہوں کی پرواہ ہے نہ حکومتوں کی اور نہ رعایا کی۔میرا عقیدہ اس وقت تک یہی رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برطانوی قوم کو ایک خاص خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ اسے دنیا میں امن و امان قائم کرنے کا ایک ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ قوم خود اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کر دے لیکن اگر ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ اپنے نشانوں سے اسے ظاہر کرے گا اس لئے اس عارضی جوش کی وجہ سے یا کسی انگریز افسر کے سلوک کے خیال سے میں اس رائے کو بدل نہیں سکتا۔بے شک بعض افسر بھی کہتے ہیں کہ تم لوگ فسادی ہو ، جھوٹ بولتے ہو ، ادھر جماعت کے لوگوں کے خطوط آتے رہتے ہیں جو مجھے اس عقیدہ کو ترک کر دینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر مجھے سچائی کے معاملہ میں نہ حکومت کی پروا ہے نہ جماعت کی۔میں جو سچ سمجھتا ہوں اسے بے لاگ ظاہر کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس کی توفیق دے۔پس یہ ایک حقیقت ہے جس کے اظہار سے میں رُک نہیں سکتا۔اب تک میرا یہی خیال ہے کہ انگریز قوم مجموعی طور پر دوسری قوموں سے اچھی ہے لیکن قوم سے میری مراد سیاسی قوم ہے اور یہ بھی مجھے یقین ہے کہ بعض افسر غدار ہیں اور رہے ہیں اور اس وقت بھی پنجاب گورنمنٹ میں بعض ایسے افسر ہیں جن کا رویہ ہمارے خلاف ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔اگر حکومت نے آزاد کمیشن بٹھایا تو ہم ان کے نام اور حالات بھی ظاہر کر دیں گے۔بعض لوگ کہتے ہیں انگریزوں میں فلاں نقص ہے مگر میں کہتا ہوں کون ہے جو نقائص سے خالی ہو۔کسی فرد کے نقص سے قوم بُری نہیں ہو سکتی حضرت مسیح ناصری کا قول مجھے کتنا پیارا لگتا ہے لوگوں نے ایک عورت کو پکڑا اور کہا کہ ہمارے مولوی تو رشوت لے کر چھوڑ دیتے ہیں چلو اسے مسیح کے پاس لے چلیں۔حضرت مسیح ایک کھلی مارکیٹ میں کھڑے تھے۔لوگوں نے کہا۔اے اُستاد! یہ عورت بدکار ہے اور ہم نے اسے بدکاری کی حالت میں پکڑا ہے۔بتاؤ خدا کے قانون کے ماتحت اس کی کیا سزا ہے؟ حضرت مسیح نے کوئی ایسا جواب دیا کہ وہ مطمئن نہ ہوئے اور کہا کیا ایسے مجرم کے لئے سنگساری کی سزا نہیں ؟ حضرت مسیح نے کہا کہ ہاں لکھی ہے مگر اس پر پہلا پتھر وہ پھینکے جس نے کبھی کوئی شرعی گناہ نہ کیا ہو۔اس پر سب آہستہ آہستہ کھسک گئے اور وہاں صرف ایک ہی