خطبات محمود (جلد 16) — Page 396
خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۳۵ء پر اعتراض کرنے والے غلطی خوردہ۔دیکھو ہم ایک زندہ خدا کے ماننے والے ہیں، کئی لوگ نادانی سے میرے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ہاتھوں کو روکتا ہے ورنہ ہم دشمنوں کو بتادیں کہ ہم کیا ہیں ، میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں میرا ایک زندہ خدا پر ایمان ہے جب تک میری جان میں جان ہے میری کوشش یہی ہوگی کہ سلسلہ کی روایات میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ہم نے آج تک ظلم سہے مگر قانون کو نہ تو ڑا اور میں چاہتا ہوں کہ آئندہ بھی ہماری یہی روایت جاری رہے کہ ہم ظلم کہیں مگر قانون کو اپنے ہاتھ سے نہ توڑیں۔ہم نے ہمیشہ حکومت سے تعاون کیا اور میں چاہتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو آئندہ بھی حکومت سے تعاون جاری رکھا جائے۔پس تمہارے دلوں میں موجودہ مخالفت کو دیکھ کر جو درد پیدا ہوتا ہے اس کا علاج میں نے تمہیں بتا دیا ہے اسے اختیار کرو۔آدمیوں سے اپنی نظر ہٹا لو اور صرف خدا پر اپنی نظر رکھو ، گالیاں سنو اور خاموش رہو ، ماریں کھاؤ اور ہاتھ نہ اُٹھاؤ بلکہ اگر دشمن تمہارے گھروں پر بھی حملہ آور ہو تب بھی تم خداتعالی کی طرف نگاہ رکھو اور کہو کہ اے خدا ! تیری مدد کب آئے گی۔مت سمجھو کہ یہ تمہاری قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ان کا دنیا میں ذکر باقی رہے گا اور لوگ تمہیں عزت و احترام کے جذبات کے ساتھ یاد کیا کریں گے۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے معرکہ کربلا میں بے شک جان دے دی مگر آج تک اسلام اس قربانی پر ناز کرتا ہے اسی طرح آنے والے لوگ آئیں گے اور وہ تمہارے ان مظالم کو یاد کر کے کہیں گے خدا کے مسیح پر ہزاروں رحمتیں ہوں کہ اُس نے اپنی قوت قدسیہ سے ایک ایسی قوم پیدا کر دی جو ان صبر آزما حالات میں بھی پُر امن رہی اور اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیا۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ گندی گالیاں جو دو سال سے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جا رہی ہیں اگر ان میں سے ایک گالی بھی لنڈن میں مسیح ناصری کو دی جائے تو وہ گالی دینے والا انگریزوں کے ہاتھ سے نہ بچ سکے اور باوجود تہذیب و شائستگی کے دعووں کے ان میں سے کئی ایسے اُٹھ کھڑے ہوں جو اسے ہلاک کر دیں مگر خدا تعالیٰ نے یہ ہمیں ہی توفیق دی ہوئی ہے کہ ہم گالیاں سنتے ہیں مگر اس کے حکم کے ماتحت پُر امن رہتے ہیں پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم جوش دکھاتے ہیں لیکن زمانہ یکساں نہیں رہے گا نہ یہ حاکم رہیں گے نہ یہ رعایا ر ہے گی یہ زمانہ گزر جائے گا اور پھر ایک اور زمانہ آئے گانئے حاکم ہوں گے اور نئی رعایا ہو گی اُس دن لوگ اقرار کریں گے کہ انتہاء درجہ کے