خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 316

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء چکے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح فوت نہیں ہوئی۔وہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی اور دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی اسے مٹا نہیں سکتیں۔نہ ہمارے اندر کے منافق اور نہ باہر کے مخالف بلکہ مخالفت کرنے والے منافق اور بیرونی دشمن سب مٹ جائیں گے، فنا ہو جائیں گے اور یہ نسل ابھی زندہ ہوگی کہ ان کی ذلت اور رسوائی کے سامان ہو جائیں گے اور اُس وقت کے لوگ اپنی آنکھوں سے اس نظارہ کو دیکھیں گے اور یہ مخالف اپنی زندگی میں ہی اپنی موت کا مشاہدہ کر لیں گے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ بڑے بڑے لوگ جو اپنے آپ کو فلاسفر اور شاعر اور کیا کیا کچھ نہیں کہتے سلسلہ احمدیہ کے مقابلہ میں جب کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی عقلیں کس طرح ماری جاتی ہیں۔ڈاکٹر سرا قبال کا بیان اس کا کھلا ثبوت ہے۔ان کا بیان پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی کیونکہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ۱۹۳۱ء میں جب کشمیر کمیٹی کا آغاز ہو اشملہ میں زور دے کر مجھے اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقر ر کیا جو کشمیریوں کی آئینی امداد کے لئے قائم کی گئی تھی حالانکہ وہ خالص اسلامی کام تھا پس اُس وقت تو ہم مسلمان تھے لیکن آج کہا جاتا ہے جماعت احمد یہ اسلامی جماعت ہی نہیں۔اگر جماعت احمد یہ اسلامی جماعت نہیں تو کیوں ۱۹۳۱ء میں سراقبال نے زور دے کر مجھے ایک اسلامی کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا۔کیا ۱۹۳۱ء میں مجھے پریذیڈنٹ بنانے والے انگریزوں کے ایجنٹ تھے جو آج کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کی حمایت کی وجہ سے یہ سلسلہ ترقی کر رہا ہے۔اُس وقت میری پریذیڈنٹی پر زور دینے والے دو ہی شخص تھے۔ایک خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے ڈاکٹر سر ا قبال۔خواجہ صاحب تو اُس موقع پر ہماری جماعت کے خلاف بولے نہیں اس لئے ان کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا لیکن ڈاکٹر سرا قبال چونکہ ہمارے خلاف بیان دے چکے ہیں اس لئے ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ۱۹۳۱ء میں انہوں نے کیوں ایک اسلامی کمیٹی کا مجھے پریذیڈنٹ بنایا ؟ اب کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو عام مسلمانوں میں اثر و اقتدار کشمیر کمیٹی میں کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوا حالانکہ اس کمیٹی کی صدارت ڈاکٹر صاحب کے زور دینے کی وجہ سے مجھے ملی۔پس کیوں ۱۹۳۱ء میں انہوں نے احمدیوں کو مسلمان سمجھا ؟ اور کیوں اب آ کر انہیں محسوس ہوا کہ جماعت احمد یہ کو مسلمانوں میں سے الگ کر دینا چاہئے۔یا تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اُس وقت ہماری حمایت کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے وہ روپے لے کر آئے تھے جو ان کی جیب میں اُچھل رہے تھے اور وہ