خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 317

خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۵ء چاہتے تھے کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شامل کر کے ان کی طاقت کو توڑ دیں اور یا یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ اُس وقت احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب جو کہہ رہے ہیں کہ انگریزوں نے احمدیوں کو طاقت دی تو غلط کہہ رہے ہیں۔آخر ہمارے عقائد بدلے تو نہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال کو اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔بلکہ وہی عقائد ہم اب رکھتے ہیں جو ۱۹۳۱ء میں اور اس سے پہلے تھے مگر ۱۹۳۱ء میں تو ہم ڈاکٹر سر اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیڈر اور ان کے نمائندہ اور راہ نما ہو سکتے سے تھے اور ڈاکٹر سراقبال میری صدارت پر زور دے سکتے اور میری صدارت میں کام کر سکتے تھے لیکن اب ہمیں سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رکھنے تک پر تیار نہیں۔۱۹۳۱ ء میں تو ہمارے اسلام کا ڈاکٹر اقبال صاحب کو یہاں تک یقین تھا کہ جب یہ سوال پیش ہوا کہ وہ کمیٹی جو انتظام کے لئے بنائی جائے گی ، اس کے کچھ اور ممبر بھی ہونے چاہئیں اور ممبروں کے انتخاب کے متعلق بعض قواعد وضع کر لینے چاہئیں تو ڈاکٹر سر اقبال نے کہا کوئی قوانین بنانے کی ضرورت نہیں ہمیں صدر صاحب پر پورا پورا اعتماد ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہم نمبروں کے انتخاب کا معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیں وہ جسے چاہیں رکھیں اور جسے چاہیں نہ رکھیں۔پھر ہنس کر کہا میں تو نہیں کہتا لیکن اگر سارے ممبر آپ نے احمدی ہی رکھ لئے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ ان لوگوں نے کمیٹی کے تمام ممبر احمدی بنالئے اس لئے آپ ممبر بناتے وقت احتیاط کریں اور کچھ دوسرے مسلمانوں میں سے بھی لے لیں اور سارے ممبر احمدی نہ بنائیں لیکن آج سرا قبال کو یہ نظر آتا ہے کہ احمدی مسلمان ہی نہیں حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نئی بات ہمارے اندر پیدا نہیں ہوئی۔پھر مجھے تعجب ہے کہ ہماری مخالفت میں اس حد تک یہ لوگ بڑھ گئے ہیں کہ ڈاکٹر سرا قبال جیسے انسان جو مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیڈر ، فلاسفر، شاعر اور نہایت عقلمند انسان سمجھے جاتے ہیں، انگریزی حکومت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے احمدیوں کو کیوں پنپنے دیا، شروع میں ہی اس تحریک کو کیوں کچل نہ دیا کیونکہ ان کے نزدیک اگر نئی تحریکات کا مقابلہ نہ کیا جائے تو اس طرح اکثریت کو نقصان پہنچتا ہے پس ان کے نزدیک حکومت کا فرض تھا کہ احمدیت کو کچل دیتی بلکہ انہیں شکوہ ہے کہ انگریزوں نے تو اتنی بھی عقلمندی نہ دکھائی جتنی روما حکومت نے حضرت مسیح ناصری کے وقت میں دکھائی تھی۔انہوں نے اتنا تو کیا کہ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکا دیا گو یہ دوسری بات ہے کہ خدا۔شر