خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 311

خطبات محمود ٣١١ سال ۱۹۳۵ء بھی نہیں بچ سکتا۔میں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ یہ آپ ہی لوگوں میں سے ہیں آپ ہی اس فتنہ کو ختم کر سکتے ہیں۔حق یہی ہے کہ ان کی حرکات کو سب شرفاء سخت ناپسند کرتے ہیں ہاں عوام دھوکا میں آ جاتے ہیں کیونکہ یہ انہیں بتاتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ع کی ہتک کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس سے عوام دھوکا میں آ جاتے ہیں اس طرح یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں بجائے اس کے کہ اسے قائم کریں ، اس پر حملے کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کوئی کھلونا نہیں کہ اسے شرارت کے لئے استعمال کیا جائے۔غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام ہی اس رنگ میں بار بارمت لیا جائے جیسے یہ لے رہے ہیں۔قومی اور سیاسی جھگڑوں میں رسول کریم ﷺ کا نام لانا اور اس رنگ میں اسے استعمال کرنا سخت ہتک ہے یہ لوگ دوسروں پر الزام دیتے ہیں حالانکہ بہتک خود کر رہے ہیں۔میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب یہ لوگ اس قدر ٹیڑھی چال چل رہے ہیں تو ان پر غصہ کیسا ؟ اسلام میں تفرقہ یہ لوگ پیدا کر رہے ہیں ، حکومت سے لڑائی یہ کر رہے ہیں ، خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن کے قیام کے لئے امپائر قائم کیا تھا مگر یہ اس سے بھی بگاڑ پیدا کر رہے ہیں وہ تو ہر چال اُلٹی چلتے ہیں ان کی مثال تو وہی ہے جو قرآن کریم نے بتائی ہے کہ اَفَمَنْ يَمْشِئ مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ " ایسے لوگوں سے ہمیں کیا شکوہ اور گلہ ہو سکتا ہے تمہیں چاہئے کہ شکوہ اور گلہ اپنے نفسوں سے کرو اور اللہ تعالیٰ کے حضور کر و۔جب گالیاں سنو فوراً عہد کرو کہ اتنے دن تبلیغ کے لئے اور وقف کریں گے اور ایسے مواقع کے لئے جو نو جوانوں کو بے قابو کرد۔ردینے والے ہوتے ہیں چاہئے کہ ہر محلے والے گیارہ گیارہ اشخاص کی ٹولیاں بناویں جن میں سے ایک افسر ہو جو اس بات کا ذمہ دار سمجھا جائے کہ محلہ میں آ کر بھی خواہ کوئی گالیاں دے وہ اپنی ٹولی کے افراد کو معیار اخلاق سے نہیں گرنے دے گا اور سمجھا تا رہے گا کہ صبر سے کام لینا چاہئے، تبلیغ کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ شورش بھی ہمارے لئے با برکت ثابت ہورہی ہے۔میں پرسوں ہی آیا ہوں واپسی پر جو ڈاک ملی اس میں دو ہندوؤں کے خطوط تھے ایک تو ایک بڑے سرکاری افسر کا لڑکا ہے اس نے لکھا ہے کہ میں اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہوں دوسرا بھی ایک معزز آدمی ہے اس نے لکھا ہے کہ مجھے اسلام سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے، مجھے لڑ پچر بھجوایا جائے تو یہ گالیاں بھی لوگوں کو ہماری طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ میں نے اتنی پیشگوئیاں آپ کو لکھ کر بھجوائی ہیں مگر آپ