خطبات محمود (جلد 16) — Page 7
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سے ہماری تعداد چھپن ہزار ہے مگر میں کہتا ہوں اسے جانے دو، اس سے پہلے وہ ۲۸ ہزار بتائی جاتی تھی اس لئے ۲۸ ہزار ہی سہی۔مگر نہیں۔اس سے دس سال پہلے وہ ۱۸ ہزار کہی جاتی تھی اس لئے ۱۸ ہزار ہی سہی بلکہ اس سے دس سال قبل وہ گیارہ ہزار سجھی جاتی تھی اس لئے میں گیارہ ہزار ہی فرض کر لیتا ہوں مگر کیا اگر گیارہ ہزار لوگ جانیں دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو کوئی قوم ہے جو انہیں مار سکے ، ہرگز نہیں۔انہیں مارنے والی قوم خود تباہ ہو جاتی ہے۔یاد رکھو جو شخص دلیری کے ساتھ جان دیتا ہے وہ دیکھنے والے پر یہ اثر چھوڑ جاتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی چیز ضرور تھی جس کے لئے اس نے اس قدر بشاشت سے جان دی۔آؤ ہم بھی دیکھیں اس سلسلہ میں کیا بات ہے اور یہ اثر گیارہ ہزار کے ختم ہونے سے پہلے ۲۲ ہزار اور پیدا کر دیتا ہے اور پھر ان بائیس ہزار کے ختم ہونے سے پہلے ستر استی ہزار اور پیدا ہو جاتے ہیں اور ان کے مرنے سے پہلے کئی لاکھ اور ہو جاتے ہیں اور اس طرح ایک وقت وہ آ جاتا ہے کہ کوئی نہیں جو انہیں مار سکے اور جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ روح پیدا نہ ہو اور جب تک ہر شخص اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر دین کی خدمت کے لئے آمادہ نہ ہو جائے۔کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی۔یہ اور بات ہے کہ ہم کسی پر ظلم نہ کریں ، فساد نہ کریں ، قانون شکنی نہ کریں مگر یہ روح ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ ظالم کی تلوار سے مرنے کے لئے تیار رہیں اور میرے پروگرام کی بنیاداسی پر ہے۔جب میں کہتا ہوں کہ اچھا کھانا نہ کھاؤ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اس لئے زندہ رہنا چاہتا ہے ، وہ نہ رہے اور جب کہتا ہوں قیمتی کپڑے نہ پہنو تو گو یا طلب زندگی کے اس موجب سے میں تمام جماعت کے لوگوں کو محروم کرتا ہوں اور جب یہ کہتا ہوں کہ کم سے کم رخصتیں اور تعطیلات کے اوقات سلسلہ کے لئے وقف کرو تو اس بات کے لئے تیار کرتا ہوں کہ باقی اوقات بھی اگر ضرورت ہوتو سلسلہ کے لئے دینے کے واسطے تیار رہیں اور جب وطن سے باہر جانے کو کہتا ہوں تو گویا جماعت کو ہجرت کیلئے تیار کرتا ہوں۔طب میں سہولتیں پیدا کرنے کو اس لئے کہتا ہوں کہ جو لوگ تہذیب و تمدن کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس لئے باہر نہیں جا سکتے کہ وہاں یہ سہولتیں میسر نہیں آ سکتیں اور معمولی تکلیف کے وقت بھی اعلیٰ درجہ کی دوائیں اور دوسری آرام دہ چیزیں نہیں مل سکتیں ان کو اس سے آزاد کر دوں اور تہذیب کے ان رسوں کو توڑ دوں۔جب ایک کشتی کے زنجیر توڑ دیئے جائیں تو کسی کو کیا معلوم کہ پھر لہریں اسے کہاں سے کہاں لے جائیں گی۔